دہرادون: ایک نئے انتظامی انتظام نے اتراکھنڈ میں اقلیتی کمیونٹی کے بچوں کے لیے نمایاں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اگرچہ ریاستی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ مدرسہ بورڈ کو تحلیل کرنے سے اقلیتی طلبہ مرکزی تعلیمی نظام کا حصہ بن سکیں گے اور ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے گا، لیکن اب یہی نظام ان کے لیے ’مڈ ڈے میل‘ کے حصول کو خطرے میں ڈالتا دکھائی دے رہا ہے۔
![]()







