بچپن کا اصل جوہر ہنسنے، کھیلنے اور بے فکری سے زندگی گزارنے میں پوشیدہ ہے۔نشوونما کے ان ابتدائی سالوں میں، کھیل کود اور تفریح محض لطف اندوزی کا ذریعہ نہیں ہوتے،بلکہ یہ بچے کی ہمہ جہت نشوونما کی بنیاد رکھتے ہیں۔
تاہم، موجودہ طرزِ زندگی نے بچپن کے اس حسین دور کو صحت کے سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ بچوں میں ’ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا بڑھتا ہوا رجحان صحت کے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ بیماری، جسے کبھی بنیادی طور پر صرف بالغوں کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے بچوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
اس رپورٹ میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کیسے پیدا ہوتی ہے، اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں، اور والدین کو اس بارے میں کیا جاننے کی ضرورت ہے۔
بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کیوں ہو رہی ہے؟
ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ ’اسکرین ٹائم‘ (اسکرین کے سامنے وقت گزارنے) اور الیکٹرانک آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بچے بچپن کی حقیقی خوشیوں یعنی کھیل کود اور بے فکری سے زندگی گزارنے سے محروم ہو رہے ہیں۔
اس تبدیلی کا بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں اضافہ اس کا ایک تشویشناک نتیجہ ہے۔ جدید طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، اسکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا، موٹاپا اور غیر صحت بخش غذائی عادات اس کیفیت کی بنیادی وجوہات ہیں۔
مختلف مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ 3 سے 18 سال کی عمر کے 8.40 فیصد بچے ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ 12.40 فیصد بچے موٹاپے کے مسئلے سے دوچار ہیں۔
بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی وجوہات کیا ہیں؟
ہمارے جسم میں ’انسولین نامی ہارمون، کھائی جانے والی خوراک کو گلوکوز میں تبدیل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جو پھر جسم کے خلیات کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
تاہم آج کے دور میں جنک فوڈ (غیر معیاری اور بازاری کھانے) اور پروسیس شدہ غذاؤں کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، بڑھتا ہوا موٹاپا، نیند کے مسائل اور موروثی عوامل کی وجہ سے، بچوں کے جسم میں موجود خلیات اکثر انسولین کا مؤثر طریقے سے استعمال کرنے یا اس پر مناسب ردعمل ظاہر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
نتیجے کے طور پر، خوراک سے حاصل ہونے والا گلوکوز خلیات کے اندر داخل نہیں ہو پاتا اور خون کے بہاؤ میں ہی موجود رہتا ہے۔ جسم کی انسولین کو استعمال کرنے کی یہ کمزور صلاحیت ہی بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس کی ابتدائی اہم علامات جن پر توجہ دینی چاہیے
بچوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا آغاز اکثر بہت آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی مراحل میں کوئی نمایاں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن خون میں شوگر کی سطح بڑھنے کے ساتھ کچھ قابلِ غور تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں.
بار بار پیشاب آنا: جسم خون کے بہاؤ سے اضافی شوگر کو خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کو بار بار پیشاب آتا ہے۔
شدید پیاس لگنا: جسم سے سیال مادوں کے تیزی سے اخراج کے باعث پانی کی کمی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بچے معمول سے زیادہ پانی مانگتے ہیں۔
شدید تھکاوٹ: چونکہ خلیات گلوکوز کو توانائی میں تبدیل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، اس لیے جسم نڈھال ہو جاتا ہے اور بچے سست یا کاہل نظر آ سکتے ہیں۔
نظر کا دھندلانا: خون میں شوگر کی سطح میں اتار چڑھاؤ آنکھوں کے عدسوں کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نظر دھندلا جاتی ہے۔
جلد کا رنگ گہرا ہونا: اکینتھوسس نائگریکینز’ جلد کی ایک ایسی کیفیت ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسولین ٹھیک سے کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے جلدخاص طور پر گردن، بغلوں اور رانوں کے ارد گرد موٹی اور گہرے رنگ کی ہو جاتی ہے۔
وزن میں اچانک کمی: خوراک یا طرزِ زندگی میں کسی تبدیلی کے بغیر وزن کا کم ہو جانا۔
زخموں کا دیر سے بھرنا: خون میں شوگر کی سطح زیادہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے کٹ یا زخموں کو بھرنے میں معمول سے کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ سب سے زیادہ کن بچوں کو ہوتا ہے؟
یہ خطرہ ان بچوں میں زیادہ ہوتا ہے جن کا وزن غیر صحت بخش غذائی عادات کی وجہ سے بڑھ گیا ہو خاص طور پر وہ بچے جن کے پیٹ کے ارد گرد چربی جمع ہو گئی ہو۔
سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا یعنی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے ڈیجیٹل اسکرینوں کے سامنے وقت گزارنا اس خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
فاسٹ فوڈ پروسیسڈ فوڈ (مصنوعی طریقے سے تیار کردہ غذائیں) اور چینی سے بھرپور اشیاء (اسنیکس) کا استعمال۔
اگر والدین یا خاندان کے قریبی افراد کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہو، تو بچوں میں بھی اس بیماری کے پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
وہ بچے جو وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں یا جن کا پیدائش کے وقت وزن کم ہوتا ہے، ان میں بھی زندگی کے بعد کے مراحل میں اس بیماری کا شکار ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔
والدین کے لیے اہم معلومات
بچے کا صحت مند مستقبل اس کے روزمرہ کے طرزِ زندگی پر منحصر ہوتا ہے؛ لہذا
اپنے بچے کے وزن پر نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ اس کی عمر کے لحاظ سے مناسب ہو۔
انہیں پیک شدہ اسنیکس یا چینی والی اشیاء دینے سے گریز کریں؛ اس کے بجائے، ان کی خوراک میں گھر کا پکا ہوا کھانا، سبز پتوں والی سبزیاں اور مکمل اناج شامل کریں۔
بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ باہر کھیل کود اور دوڑ بھاگ میں گزاریں۔