حیدرآباد: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریاست مشی گن سے سینیٹ کی نشست پر عبدالالسید کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کو کہا کہ اتر پردیش کا ’عبدل‘ اب کسی کے آگے نہیں جھکے گا بلکہ لیڈر بنے گا۔
حالیہ ہفتوں میں انتخابی ریاست اتر پردیش میں عوامی جلسوں سے خطاب کرنے والے اویسی نے کہا کہ عبدل کو اب دوسروں کے لیے دریاں بچھانے کا کام بند کر دینا چاہیے، جس کا واضح اشارہ مسلمانوں کی سیاسی شناخت کو مستحکم کرنے کی جانب تھا۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ”مشی گن میں عبدل سینیٹر منتخب ہو گیا۔ میرے بولنے کے بعد عبدل کا معاملہ موضوعِ بحث بنا یا نہیں؟ بی جے پی کہتی تھی کہ عبدل پنکچر جوڑتا ہے۔
جمہوریت میں وہی عبدل سینیٹر بن گیا۔ اب یوپی کا عبدل بھی کسی کے آگے نہیں جھکے گا بلکہ ایم ایل اے بنے گا۔“ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں مرکز کے اس موقف پر شدید تنقید کی جس میں قومی دارالحکومت کے کرشی بھون میں واقع ایک صدی پرانی مسجد کو ہٹانے کی بات کہی گئی ہے۔
مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ سرکاری دفاتر کے احاطے میں مستقل مذہبی ڈھانچہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ سرکاری املاک کے ’سیکولر‘ تشخص کے منافی ہے۔
اویسی نے کہا کہ یہ مسجد دہلی کے دارالحکومت بننے سے پہلے تعمیر کی گئی تھی اور لٹینز دہلی اس کے ارد گرد بعد میں آباد ہوئی۔ مسجد کو ملک کے ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک رجسٹرڈ وقف جائیداد ہے اور وقف ہی اس کا حقیقی مالک ہے۔
اس معاملے پر این ڈی اے حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسی حکومت نے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کا افتتاح بھومی پوجا کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا: ”ایسا لگتا ہے کہ کسی عوامی پروجیکٹ کے لیے ایک مخصوص مذہب کی رسومات ادا کرنے سے سیکولرازم مجروح نہیں ہوتا، لیکن حکومت کو اس مسجد سے الرجی ہے جو کرشی بھون کی تعمیر سے بہت پہلے یعنی 1912ء سے بھی پہلے سے وہاں موجود ہے۔“