بھوپال: مدھیہ پردیش کے ایک بی جے پی رکن اسمبلی نے ایسا بیان دیا ہے، جس سے نیا تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے. اس خاتون رکن اسمبلی نے پارٹی کارکنان سے اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہا ہے کہ نودرگا جشن کے دوران ان کے اسمبلی حلقے کے گربا مقامات میں مسلم نوجوان نہ آنے پائیں. انہوں نے الزام لگایا ہے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو پھنسا کر زبردستی دھرماتر کرواتے ہیں، تاکہ ملک میں اپنی آبادی بڑھا سکیں.
اندور -3 سے رکن اسمبلی اور مدھیہ پردیش بی جے پی کی نائب صدر اوشا ٹھاکر نے ایک انگلش نیوز پیپر کو بتایا کہ وہ جلد ہی تمام گربا منتظمین کو خط لكھےگي اور درخواست کریں گی کہ صرف ہندو مردوں کو اندر جانے کی اجازت دی جائے. انہوں نے کہا کہ گربا مقامات میں داخل کے لئے تصویر شناختی کارڈ کو لازمی بنانے کی بھی درخواست کی جائے گی.
اوشا نے کہا، ‘اگر وہ (مسلم) یہ تہوار میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے مذہب بلكر ہندو بننا ہوگا. مسلم نوجوان اپنے ماتھے پر تلک لگا کر منتظمین کی آنکھوں میں دھول جھوكتے ہیں اور اندر جا کر وہ ہندو لڑکیوں کو اپنے جال میں پھساتے ہیں. میں منتظمین کو خط لکھنے جا رہی ہوں، جس میں ووٹر شناختی کارڈ دیکھ کر صرف ہندو مردوں کو ہی اندر جانے دینے کی اجازت دینے کی درخواست کروں گی. ‘
اوشا ٹھاکر ‘مجموعی انقلاب شعور فورم’ نام کی تنظیم کی کنوینر بھی ہے. اس تنظیم نے ایسے پرچے تقسیم کئے ہیں، جن نودرگا جشن کے دوران ‘نظم و ضبط، ثقافت اور شچتا کو برقرار رکھنے کے لئے’ 11 فارمولا بتائے گئے ہیں. ان میں لوگوں سے روایتی لباس پہننے اور پلاسٹر آف پیرس کی بجائے مٹی سے بنی ہوئی مورتیوں کا استعمال کرنے کے لئے کہا گیا ہے. اس کے ساتھ ہی فحش گانوں سے گریز کرتے ہوئے مذہبی اور لوک گیت بجانے کی ہدایت دی گئی ہے.
اس فہرست کے آخر میں اسلام کا ذکر کئے بغیر ‘لو جہاد’ کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے. ساتھ ہی شناختی کارڈ ضروری کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے، مگر یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ایسا کرنا کیوں ضروری ہے۔








