آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد اور شہریوں کو پیش آنے والے مسائل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک شخص نے ایسا انوکھا طریقہ اختیار کیا کہ سرکاری دفتر میں موجود اہلکار اور دیگر افراد حیران رہ گئے۔
بھاتی شہر کھنڈوا میں ایک شہری کتے کا ماسک پہن کر اور اسی جانور کا روپ دھار کر سرکاری عوامی سماعت میں پہنچ گیا۔ شہری نے اپنے منفرد احتجاج کے ذریعے حکام کی توجہ شہر میں بڑھتے ہوئے آوارہ کتوں کے مسئلے اور ان کے باعث پیش آنے والے واقعات کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔
شہری کے غیر معمولی حلیے کو دیکھتے ہی سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے ابتدائی طور پر سرکاری دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا، تاہم اپوزیشن رہنماؤں کی مداخلت کے بعد اسے عوامی سماعت میں شرکت کی اجازت دے دی گئی۔ اس دوران اس شخص نے کتے کا روپ دھارنے کی وجہ بھی بیان کی اور حکام سے مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں شریک میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر دیپک راٹھور نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 4 برس کے دوران شہر میں آوارہ کتوں کی نس بندی کے لیے تقریباً 40 لاکھ بھارتی روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، تاہم بھاری رقم خرچ ہونے کے باوجود آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی نہیں آئی اور شہری بدستور اس مسئلے سے دوچار ہیں۔
دیپک راٹھور کے مطابق گزشتہ 4 برس کے دوران شہر میں کتوں کے کاٹنے کے 13 ہزار 225 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ان واقعات کے باعث شہریوں بالخصوص بچوں، خواتین اور بزرگوں میں خوف پایا جاتا ہے جبکہ آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد شہریوں کے لیے مستقل پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی کے لیے چلائی جانے والی مہم، اس پر خرچ ہونے والی رقم، جاری کیے گئے ٹھیکوں اور متعلقہ ادارے یا ایجنسی کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر گزشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں روپے نس بندی مہم پر خرچ کیے گئے ہیں تو اس کے باوجود آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی کیوں نہیں ہوئی۔
مظاہرین کی شکایت پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے معاملے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا مالی و انتظامی غفلت سامنے آئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔