علی گڑھ، اترپردیش: ضلع کے اگلاس علاقے میں جمعہ کو ایک نوجوان کی موت سے سنسنی پھیل گئی۔ متوفی نوجوان کی شناخت شفیع قریشی ولد محمود قریشی ساکن مدھو گڑھی ہاتھرس کے طور پر ہوئی ہے۔
وہ پیشے سے ٹیمپو ڈرائیور تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جمعہ کو شفیع قریشی قصبے کے سرائے بازار کی ایک مسجد میں پہنچے اور اچانک سر پیٹنے لگے۔ وہ زور زور سے ہنگامہ کرنے لگے۔ وہاں موجود لوگوں نے پکڑنے کی کوشش کی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
مسجد میں ہنگامہ کرنے اور نماز میں خلل ڈالنے کے الزام
پولیس نے نوجوان کو مسجد میں ہنگامہ کرنے اور نماز میں خلل ڈالنے کے الزام میں بڑی مشکل سے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نوجوان کو تھانے لا رہی تھی لیکن راستے میں اس نے پولیس کی گاڑی میں بار بار سر پیٹنا شروع کر دیا اور عجیب و غریب سلوک کرنے لگا۔ نوجوان کی حالت بگڑتی دیکھ کر اسے سی ایچ سی میں داخل کرایا گیا، جہاں سے اسے جے این میڈیکل کالج علی گڑھ ریفر کر دیا گیا۔ وہاں علاج کے دوران شفیع قریشی کی موت ہوگئی۔
ذہنی حالت پہلے سے ٹھیک نہیں تھی: پولیس
نوجوان کی موت کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ اہل خانہ نے پولیس پر لاپرواہی اور مارپیٹ کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے خراب برتاؤ کی وجہ سے نوجوان کی حالت بگڑ گئی اور بعد میں اس کی موت ہو گئی۔ اگلاس تھانے کے انسپکٹر نریندر یادو نے بتایا کہ نوجوان کی ذہنی حالت پہلے سے ٹھیک نہیں تھی۔ وہ نشے کا عادی تھا۔ نوجوان پہلے ہی آگرہ میں زیر علاج تھا اور غالباً اسی ذہنی حالت میں اس نے یہ قدم اٹھایا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ ساتھ ہی اہل خانہ نے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ شفیع قریشی کے خاندان کا رو رو کر برا حال ہے۔ اگلاس مجسٹریٹ مہیش کمار نے بتایا کہ نوجوان نے مسجد میں خود کو زخمی کر لیا تھا۔ وہ مقروض تھا۔ وہ منشیات کا عادی تھا اور ذہنی مریض تھا۔