ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد چوری اور اخلاقی جرائم کا مرتکب پائے گئے تھے۔
خیال رہے کہ 13 نومبر کو طالبان کے سپریم لیڈرنے رواں ماہ ججوں کو اسلامی قانون یا شریعت کے مکمل نفاذ کا حکم دیا تھا، اس کے بعد پہلی مرتبہ کوڑے کی سزاؤں کی تصدیق کی گئی ہے، طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے رواں ماہ ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلامی قانون میں بیان کردہ سزاؤں کا مکمل نفاذ کریں۔
صوبہ لوگر میں طالبان حکومت کے اطلاعات وثقافت کے سربراہ قاضی رفیع اللہ صمیم نے کہا کہ کوڑوں کی سزا سرعام نہیں دی گئی۔









