ایئر ریسنگ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہوائی جہاز یا طیارے مخصوص فضائی راستے پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اس مقابلے میں کامیاب ہونے والا وہ ہوتا ہے جو یا تو سب سے کم وقت میں واپس آتا ہے، یا سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرتا ہے، یا پھر پہلے سے اندازہ لگائے گئے وقت کے سب سے قریب پرواز مکمل کرتا ہے۔
ایئر ریسنگ کھیل میں ہوائی جہازوں کی دوڑ یا تو کسی متعین راستے پر یا ایک ملک سے دوسرے ملک تک کی جاتی ہے۔ اس کھیل کی ابتدا 1909 میں ہوئی جب فرانس کے شہر ریمز میں پہلا بین الاقوامی ایوی ایشن میلہ منعقد ہوا۔
اسپورٹس ایوی ایشن یعنی کھیلوں کی ہوابازی کی جڑیں فضائی پرواز کے ابتدائی دور سے جڑی ہوئی ہیں، جب ہوا بازی کے موجدوں نے فاصلے اور رفتار کی بنیاد پر مقابلے منعقد کر کے نئے ہوائی جہازوں کی جانچ اور ترقی کو فروغ دیا۔ ابتدائی طیارہ ساز ادارے بھی ان مقابلوں کو اپنی جدید ڈیزائن کردہ ہوائی مشینوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر مقابلے فرانس میں ہوتے تھے اور ان میں کئی مشہور ہوا باز حصہ لیتے تھے۔
ان مقابلوں میں شریک ہوا بازوں کے درمیان سخت مسابقت نے ہوابازی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران یہ کھیل وقتی طور پر بند ہو گیا تھا، لیکن 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں کچھ مشہور مقابلوں اور انعامی ٹرافیوں کی بدولت ایئر ریسنگ نے دوبارہ زور پکڑا۔ پلیٹزر ٹرافی جس کا انعقاد 1920میں ہوا تھا، اس کے بعد تھامسن ٹرافی جو 1929 میں ہوئی تھی، اس کے بعد سال 1931 میں بینڈکس ٹرافی کا انعقاد کرایا گیا،یہ تمام مقابلے دنیا بھر کے بہترین پائلٹوں کو اپنی طرف کھینچتے تھے۔
تاہم سب سے مشہور مقابلہ شنیڈر ٹرافی کی ریسیں تھیں، جو کہ سمندری جہازوں کے لیے ایک بین الاقوامی رفتار کا مقابلہ تھا۔ ان مقابلوں کا آغاز 1913 میں موناکو سے ہوا، اور دنیا کے مختلف مقامات پر منعقد ہوتے رہے۔
شنیڈر ٹرافی کی ریسز کا اختتام 1931 میں اس وقت ہوا جب برطانیہ نے مسلسل تین مرتبہ یہ ٹرافی جیت لی۔ ٹرافی کے قوانین کے مطابق جو ملک پانچ سال کے اندر تین بار جیت جائے، وہ ٹرافی ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ سکتا ہے، چنانچہ انگلینڈ نے اسے مستقل طور پر حاصل کر لیا۔
دوسری جنگِ عظیم کے آغاز (1939) کے ساتھ ہی ایئر ریسنگ ایک بار پھر رک گئی، اور ہوا بازی کے ماہرین اور ہوائی جہاز بنانے والی کمپنیاں اپنی توجہ انتہائی جدید فوجی طیاروں کی تیاری پر مرکوز کرنے لگیں۔
جنگ کے اختتام تک، جدید یا بغیر کسی پابندی کے ہوائی جہازوں کے ساتھ کھیلوں کی ہوابازی کی لاگت اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ یہ ناقابل برداشت بن گئی تھی۔
ایئر ریسنگ کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سب سے بہتر راستہ فارمولا ریسنگ کی ترقی سمجھا گیا، اس مقصد کے لیے جنگ کے بعد کے فوجی طیارے جو سستے داموں دستیاب تھے، اور تیز رفتار چھوٹے طیارے جو خاص طور پر ریسنگ کے لیے بنائے گئے تھے، استعمال کیے گئے۔
فارمولا ریسنگ کی شروعات 1947 میں امریکہ میں ہوئی، جس میں پائلنز کے گرد طیارے دوڑتے ہیں — یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کار ریسنگ کے ٹریک پر دوڑ ہو۔ اس طرز کے مقابلے میں وہ طیارے شامل کیے جاتے ہیں جن کی کارکردگی ایک جیسی ہو، تاکہ مقابلہ منصفانہ ہو۔
ہینڈی کیپ ریسز میں ہر طیارے کو مختلف وقت پر روانہ کیا جاتا ہے، اس حساب سے کہ تمام طیارے نظریاتی طور پر ایک ہی وقت میں فائنل لائن پر پہنچیں۔ اس طرح مختلف طاقت اور سائز کے طیارے ایک ساتھ اور منصفانہ طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں، جو ناظرین کے لیے نہایت دلچسپ نظارہ ہوتا ہے۔
فرانس میں بھی کچھ فارمولا 1 ریسز منعقد ہوتی ہیں، تاہم زیادہ تر یورپی ممالک ایئر ریلِیز اور درست پرواز جیسے مقابلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ایرو اسپیس انڈسٹری اُن صنعتوں کا مجموعہ ہے جو زمین کے ماحول کے اندر اور اس سے باہر پرواز کرنے والی گاڑیوں کی تیاری سے متعلق ہیں۔ لفظ “ایرو اسپیس” دو الفاظ “ایروناٹکس” (ہوابازی) اور “اسپیس فلائٹ” (خلائی پرواز) سے ماخوذ ہے۔
ایرو اسپیس انڈسٹری میں مقابلے اور ترقی کا دارومدار ٹیکنالوجی میں پیش رفت پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صنعت دنیا بھر میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کی قیادت کرتی ہے۔ایرو اسپیس سسٹمز وزن کے مقابلے میں بہت زیادہ مالی قدر رکھتے ہیں، اور یہ تکنیکی لحاظ سے سب سے زیادہ پیچیدہ مصنوعات میں شمار ہوتے ہیں — ان میں ہزاروں اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ملک کے لیے ایرو اسپیس انڈسٹری کا حامل ہونا معاشی اور سیاسی لحاظ سے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔
یہ صنعت مالی قدر کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ انڈسٹریز میں سے ایک ہے، اور اس میں ملازمت کے بہت سے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ اس صنعت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں چند بڑی کمپنیاں کام کرتی ہیں، لیکن ہر سطح پر بین الاقوامی شراکت داریاں بھی عام ہیں۔
بڑے ایرو اسپیس ممالک کے لیے سب سے بڑے صارف ان کے اپنے فوجی ادارے ہوتے ہیں، اور بعض اوقات دیگر ممالک کی افواج بھی ان کی گاہک ہوتی ہیں۔ اس کے بعد سب سے اہم خریدار دنیا کی کمرشل ایئر لائنز ہیں۔