ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ کہکشاں میں پھیلی ’عظیم خاموشی‘ کی وضاحت خلائی مخلوق کے ’عام اور سادہ‘ ہونے سے کی جا سکتی ہے۔
مزاحیہ فلم ’ایلین: ارتھ‘ کے ایک کردار کو 25 جولائی 2025 کو امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں منعقدہ 2025 کامک کان انٹرنیشنل کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کیا کوئی وجہ موجود ہے کہ خلائی مخلوق نے ہمیں نظرانداز کرنا شروع کر دیا؟ کیا وہ کوشش کرتے کرتے تھک گئے ہیں؟ سائنس دانوں کی طرف سے پیش کی گئی یہ تازہ ترین تھیوری ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ عام خیال کے برعکس خلائی مخلوق بھی ہم جیسے ہی آلات استعمال کر رہی ہے اور اسی لیے وہ انسانوں کا پتہ نہیں لگا سکتی۔
’ریڈیکل منڈینٹی‘ کہلانے والی ایک نئی تحقیق اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ کہکشاں میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی غیر زمینی تہذیبوں (ای ٹی سیز) کے شواہد کی کمی کیوں ہے؟ جسے ’فرمی پیراڈوکس‘ بھی کہا جاتا ہے۔
فرمی پیراڈوکس کی وضاحت میں کئی نظریات پیش کیے جا چکے ہیں، جیسے انسانیت کا کسی آسمانی چڑیا گھر میں قید ہونا یا خلائی مخلوق کا ایسی صورتوں میں منتقل ہو جانا، جنہیں پہچانا نہیں جا سکتا۔
ڈریک مساوات کے مطابق، کائنات میں ایسی بہت سی تہذیبیں ہونی چاہییں جو ہمارے قریب ہوں اور ہم سے رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ یہ مساوات ذہین زندگی سے رابطے کے امکان کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ ایسا امکان کافی زیادہ ہونا چاہیے۔
لیکن ناسا کے گوڈرڈ سپیس فلائٹ سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر رابن کوربٹ کا کہنا ہے کہ کہکشاں میں تہذیبوں کی تعداد محدود ہے اور ’ان میں سے کسی نے بھی اتنی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی حاصل نہیں کی کہ بڑے پیمانے پر خلائی انجینیئرنگ کر سکے یا پھر ان میں ایسا کرنے کی خواہش ہی نہیں۔‘