خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی انجمن علمائے کرام نے مقبوضہ علاقوں میں تعینات امریکی سفیر کے مشرق وسطیٰ، لبنان اور ایران سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفیر کے بیانات امت مسلمہ کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کو جائز قرار دینے، زبردستی اپنی مرضی مسلط کرنے اور دشمن کے منصوبوں کو قبول کروانے کے سامراجی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان بیانات پر عرب حکومتوں کا ردعمل شرمناک، کمزور اور بے اثر ہے اور نہ ہی امریکہ اور صہیونی ریاست اس کی کوئی پروا کرتی ہے۔
انجمن نے زور دے کر کہا کہ کفر کی قیادتوں کی توسیع پسندانہ خواہشات کو صرف جنگی تیاری، عملی جدوجہد، قربانی کے لیے مکمل آمادگی اور ایمان و جہاد کے ذریعے عوامی بیداری سے ہی ناکام بنایا جا سکتا ہے اور انہی اقدامات سے ان کی طاقت کو توڑا جا سکتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قرآن کریم کی طرف سنجیدہ رجوع اور رہنماؤں کی پیروی ہی امت کو ذلت اور غلامی سے نجات دلا سکتی ہے اور اسے غلبے کے نتائج سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
انجمن علمائے یمن نے کہا کہ لبنان، غزہ اور مغربی کنارے پر مجرمانہ حملے، مسجد اقصیٰ کی بار بار بے حرمتی، شام پر جارحیت اور ایران کو دھمکیاں ایسے حالات ہیں جو ایک متحد اسلامی مؤقف اور اعلیٰ سطح کی تیاری کا تقاضا کرتے ہیں۔
حکومتوں کی غلامی اور بعض کی دشمن کے ساتھ ملی بھگت کے باوجود امت کو موجودہ صورتحال کے خطرات سے آگاہ رہنا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ ان حالات سے غفلت بڑے سانحات کو جنم دے سکتی ہے۔
اعلامیے کے ایک اور حصے میں کہا گیا کہ قوموں کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل سے لاتعلقی کے اعلان، ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور قرآن کی تعلیمات کے مطابق اپنی تربیت سے شروع ہوتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہم ماہ قرآن اور جدوجہد کے مہینے میں داخل ہیں۔
واقعات کا تسلسل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کوئی فرق نہیں؛ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور جو کوئی امریکہ کا اتحادی بنتا ہے وہ درحقیقت اسرائیل کا اتحادی ہوتا ہے۔
انجمن علمائے یمن نے آخر میں زور دیا کہ امت، خصوصاً علما، عوام میں شعور بیدار کریں، انہیں اللہ کی راہ میں جدوجہد کی ترغیب دیں اور امریکہ و اسرائیل سے برائت اختیار کرنے کی دعوت دے کر اپنی ذمہ داری پوری کریں۔