خان یونس، غزہ: موسم سرما کی بارش نے غزہ کی پٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔عارضی خیموں میں ٹخنوں تک پانی بھر گیا ہے . خان یونس کے جنوبی شہر میں موسلا دھار بارش نے ایسی تباہی مچائی کے خیموں میں کمبل بھیگ گئے اور کھانا پکانے کے لیے بنائے گئے مٹی کے تندور کیچڑ میں تبدیل ہو گئے۔
حالات اس قدر ابتر ہیں کہ خیموں سے پانی نکالنے کے لیے موضوع آلے دستیاب نہیں ہیں۔ کچھ لوگ خیموں سے پانی نکالنے کے لیے ٹن کے ڈبے استعمال کرتے دکھائی دیے۔
جنوبی غزہ کے رفح سے بے گھر ہونے والے مجدولین ترابین نے کہا کہ ” خیمہ اڑ گیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے۔”
اس نے اور کنبہ کے افراد نے کیچڑ لگے کمبل کو ہاتھ سے خشک کرنے کی کوشش کی۔
ایمان ابو رزیق نے کہا، جب ہم صبح بیدار ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ پانی خیمے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس نے اشارہ کرتے ہوئے کہا، یہ گدے ہیں۔ یہ سب پوری طرح بھیگے ہوئے ہیں۔
ایک بے گھر فلسطینی خاتون فاطمہ ابو عمر نے کہا ، “ثالث کہاں ہیں؟ ہمیں کھانا نہیں چاہیے، ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ ہم تھک چکے ہیں۔ ہمیں صرف گدے اور غلاف چاہیے۔”
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 13 دسمبر سے اب تک کم از کم 12 افراد، جن میں نومود بھی شامل ہے، ہائپوتھرمیا یا شدید موسمی حالات میں جنگ سے تباہ شدہ گھروں کے گرنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہنگامی کارکنوں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تباہ شدہ عمارتوں میں نہ رہیں، کیونکہ وہ گر سکتی ہیں۔ لیکن زیادہ تر علاقہ ملبے میں ہونے کی وجہ سے بارش سے بچنے کے لیے کچھ ہی جگہیں ہیں۔ جولائی میں اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا تھا کہ غزہ میں تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 414 افراد ہلاک اور 1,142 زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ میں مجموعی طور پر فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 71,266 ہے۔
امدادی تنظیموں اور اسرائیلی فوج کے فراہم کردہ تجزیے کے مطابق، غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل جنگ بندی کے تحت طئے پائی امداد سے بہت کم ہے۔
انسانی امداد کے انچارج اسرائیلی فوجی ادارے نے گزشتہ ہفتے کہا کہ امداد کے 4,200 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، اس کے علاوہ صفائی ستھرائی کے لیے کچرا ہٹانے کے لیے 8 ٹرک، خیموں اور موسم سرما کے لباس پر مبنی امداد شامل ہے۔
اسرائیلی فوجی ادارے نے خیموں کی تعداد کے بارے میں تفصیل بتانے سے انکار کردیا۔ دوسری جانب امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ ضرورت اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
شیلٹر کلسٹر کے مطابق غزہ میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے، تقریباً 72,000 خیمے اور 403,000 ٹارپس داخل ہو چکے ہیں۔
غزہ میں امداد کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے سرکردہ گروپ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پر لکھا، “غزہ میں لوگ پانی بھرے خیموں اور کھنڈرات میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” انھوں نے مزید کہا، “اس میں کچھ بھی ناگزیر نہیں ہے۔ امدادی سامان کی ضرورت کے مطابق اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔”
اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ زیادہ تر مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کی پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ 10 اکتوبر سے نافذ ہوے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا مقصد غزہ میں عارضی خیمے سمیت انسانی امداد میں اضافہ کرنا تھا۔