ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز‘ حیدرآباد
بچپن کے دن بھی کیا دن تھے۔ تھا تو بچپن مگر کام بڑوں جیسے کیا کرتے تھے۔ ایسے ایسے کھیل‘ جنہیں آج یاد کرتے ہیں تو عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے ”اُچک بِلی“ کوئی ایک بدنصیب گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر رکوع کی پوزیشن میں کھڑا ہوتا‘ دوسرے لڑکے دوڑتے ہوئے آتے اور اس کی پیٹھ پر دونوں ہتھیلیاں رکھ کر دوسری طرف کود جاتے۔ اگر کوئی ناکام ہوجاتا تو پھر اس کی پیٹھ کی خرابی آتی۔ اکثر شرارت کے طور پر گیلی مٹی ہاتھوں کو لگاکر پیٹھ پر تھپکی لگاتے پیٹھ لال ہو نہ ہو شرٹ ضرور لال ہوجاتی۔ اور پھر گھر میں شرٹ کی کسر پیٹھ پر نکلتی۔ آنکھ مچولی، چھینم چھانی، چور پولیس، ایک اور کھیل بھی ہوا کرتا تھا ربر کی گیند سے نشانہ لگاکر مارا جاتا کچھ مہارت سے گیند کو کیچ کرلیتے ورنہ جسم کے کئی حصوں پر اس کے نشان کئی کئی دن تک موجود ہوتے۔









