وہ سال 2002ء اور ماہ اکتوبر کا تھا اور اس سے چند ماہ قبل میں نے وزیر اُمور خارجہ کی حیثیت سے اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا اور ہندوستان کے پڑوسی ملکوں کے پہلے خیرسگالی دورے کررہا تھا۔ ان ہی دوروں کے ایک حصہ کے طور پر میں نے دورۂ افغانستان کا فیصلہ کیا جو چند ماہ قبل ہی طالبان کے شکنجے سے آزاد کروایا گیا تھا۔ افغانستان کا دورہ کوئی معمولی دورہ نہیں تھا بلکہ وہاں جانا مشکلات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ ایسے میں میں نے ہیرات، مزار شریف، قندھار کے دورہ کا فیصلہ کیا۔Copyright Dailyaag - All Rights Reserved