عراق کی بندرگاہ الفاؤ میں 2 غیر ملکی تیل بردار جہازوں پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کے مطابق کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے 3 اہم شرائط پیش کی ہیں جن میں ایران کے ’جائز حقوق‘ کو تسلیم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ (ہرجانے کی ادائیگی) کرنا اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں شامل ہیں۔
جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بڑا نقصان
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔