حوزۂ علمیہ کے سربراہ آیت اللہ اعرافی نے امریکی۔صہیونی حملوں میں رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا سے سخت مذمت کا مطالبہ کیا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران کے حوزہ ہائے علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علیرضا اعرافی نے حالیہ امریکی اور صہیونی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی حسینی خامنہ ای اور دیگر کمانڈروں کی شہادت کے تناظر میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیون چودھویں کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے اپنے خط میں کہا کہ ایرانی قوم اور عالمِ تشیع اس وقت ایک بے مثال غم اور سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایک مشترکہ حملے میں ایران پر جارحیت کی جس کے نتیجے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے دفتر میں دورانِ خدمت اپنے بعض ساتھیوں اور اہل خانہ کے ہمراہ شہید ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف عالمِ تشیع کے اعلیٰ ترین مرجع تھے بلکہ ایران میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کے حقوق کے بھی مضبوط حامی تھے۔ ایک بڑے مذہبی رہنما کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا محض جنگی جرم نہیں بلکہ تاریخِ ادیان میں ایک غیر معمولی واقعہ اور تمام آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کی توہین ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے مزید لکھا کہ اس اقدام سے ایک خطرناک روایت قائم ہوسکتی ہے جس کے تحت طاقتور ریاستیں مستقبل میں کسی بھی مذہبی رہنما کو اپنا ہدف قرار دے سکتی ہیں۔
خط میں فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت کو بھی آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف طویل عرصے سے جاری دھمکیوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا۔ آیت اللہ اعرافی نے یاد دلایا کہ پوپ خود بھی کئی مرتبہ فلسطینی عوام کے خلاف مظالم اور بے گناہوں کے قتل عام کی مذمت کرچکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی حملے کے دوران صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو بھی فضائی بمباری کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 8 سے 12 سال کی عمر کی تقریباً 170 طالبات شہید ہوگئیں۔
آیت اللہ اعرافی نے اس سانحے کو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملبے تلے دبے بچوں کے بستے اور جوتے ہر آزاد انسان کے دل کو رنجیدہ کر دیتے ہیں اور آج میناب کے بچوں کا دفاع بھی غزہ کے بچوں کے دفاع کی طرح ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
خط کے اختتام پر انہوں نے پوپ لیون چہاردہم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک عالمی مذہبی رہنما اور بین المذاہب مکالمے کے علمبردار کی حیثیت سے ان واقعات کو جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جرم اور مذہبی رہنماؤں کی توہین قرار دیتے ہوئے واضح الفاظ میں مذمت کریں اور اس بات کی وضاحت کریں کہ ایسے اقدامات کا مسیحیت کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔