حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر محمد اظہر الدین نے جمعہ کو اپوزیشن بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں پارٹیاں فرقہ وارانہ مسائل پر پروان چڑھتی ہیں۔
سابق کرکٹر نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو آئندہ جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں اپنی قوت کا اندازہ ہو گیا ہے اور اس لیے گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “وہ ان ایشوز پر پروان چڑھتے ہیں۔ ان کے پاس اور کچھ نہیں ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی دونوں ساتھ ہیں۔ تین یا چار دن میں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ انہیں انتخابات میں اپنی قسمت کا احساس ہے۔ اسی لیے وہ ایسے گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔”
محمد اظہر الدین مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے اپنے اور وزیراعلی ریونت ریڈی کے خلاف تبصروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نظام کے دور سے ہی حیدرآباد میں ہندو اور مسلمان ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔
اظہرالدین نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا مقصد سیکولر تانے بانے میں خلل ڈالنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین ظاہر کیا کہ کانگریس امیدوار نوین یادو ضمنی انتخاب جیت جائیں گے۔
مرکزی وزیر بانڈی سنجے کمار نے وزیراعلی ریونت ریڈی کو چیلنج کیا کہ وہ اظہر الدین سے پوجا کرنے اور تلک لگانے کے لئے کہیں۔ جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کے لیے ضمنی انتخاب 11 نومبر کو ہوگا۔
واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہر الدین نے گذشتہ دنوں تلنگانہ حکومت میں وزیر کے طور پر حلف لیا۔ تلنگانہ کے گورنر جشنو دیو ورما نے راج بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں اظہر الدین کو عہدے کا حلف دلایا۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور وزراء نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔
اظہر الدین کے کریئر پر ایک نظر: اظہر الدین 8 فروری 1963 کو حیدرآباد شہر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پرائمری تعلیم عابڈس کے آل سینٹس ہائی اسکول سے حاصل کی۔ انہوں نے نظام کالج میں بی کام کی تعلیم حاصل کی۔
اپنے چچا زین العاب الدین سے متاثر ہو کر انہوں نے کرکٹ کے میدان کی طرف قدم بڑھایا۔ اظہر الدین نے 1984 میں بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کیا، انہوں نے بطور کرکٹر بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک پہچان بنائی۔
اس وقت انہوں نے پہلے تینوں ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنا کر شائقین کا دل جیت لیا تھا۔ وہ اپنے وقت کے سب سے اسٹائلش بیٹسمینس میں سے ایک تھے اور اپنی فیلڈنگ کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔