سرینگر: جموں و کشمیر اور لداخ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے پر حراست میں لیے گئے چین کے شہری کو امیگریشن اور غیر ملکی قانون کی خلاف ورزی کرنے پر وادی سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ 29 سالہ شخص ہو کونگٹائی کو 10 دسمبر کو سرینگر ہوائی اڈے سے ملک بدر کر دیا گیا اور اسے امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے پر بلیک لسٹ کر دیا گیا۔
چین کے اس شہری کو پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب اسے بڈگام کے ہوم اسٹے میں غیر قانونی طور پر مقیم پایا گیا۔ سرکاری اہلکار کے مطابق، یہ شخص بڈگام ضلع میں ایک ہوم اسٹے میں رہ رہا تھا، جموں و کشمیر اور لداخ کا سفر کرتے ہوئے ویزا کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا۔
29 سالہ نوجوان 19 نومبر کو ایک درست ٹورسٹ ویزا پر نئی دہلی پہنچا تھا جس کا مقصد بدھ سرکٹ بشمول وارانسی، آگرہ، جے پور، گیا اور کشی نگر جانا تھا، لیکن کونگٹائی غیر قانونی طور پر 20 نومبر کو ای آر او لیہہ کو رجسٹریشن کے لیے رپورٹ کیے بغیر لداخ کے لیے اڑان بھری اور یکم دسمبر کو سرینگر پہنچ گیا۔
اس نے لداخ کے دور دراز گاؤں زنسکار کا بھی سفر کیا۔ سرینگر میں اس نے شنکراچاریہ ہل، حضرت بل کی زیارت گاہ، ہارون بدھسٹ سائٹ اور اونتی پورہ کے کھنڈرات کا دورہ کیا، جو فوج کے وکٹر فورس ہیڈ کوارٹر کے قریب واقع ہے۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ حکام نے اسے ایک ہندوستانی سم استعمال کرتے ہوئے پایا، بعد ازاں اس کا فون فارنزک تجزیہ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ فون کی جانچ میں پایا گیا کہ اس نے سی آر پی ایف کی تعیناتی اور آرٹیکل 370 سرچ کیا تھا، جسے مرکزی حکومت نے اگست 2019 میں منسوخ کر دیا تھا۔
اس کی حراست کے بعد پولیس نے ہوٹلوں، ہاؤس بوٹس اور ہوم اسٹے کے منتظمین کو غیر ملکیوں کے قیام کو چھپانے کے خلاف خبردار کیا اور اس سلسلے میں پوری وادی میں چھ مقدمات درج کیے ہیں۔
امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کے تحت، سفر کے لیے غیر ملکی شہریوں کو فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRO) کو رپورٹ کرنے اور فارم سی فائل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک قانونی ضرورت ہے جس کا مقصد سکیورٹی کی نگرانی کو برقرار رکھنا اور غیر ملکی شہریوں کی مناسب دستاویزات کو یقینی بنانا ہے۔