خاموش طبیعت کے مالک ہوں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے مگر بعض بچوں کا بہت کم بو لنا اوردوسرے لوگوں سے زیادہ گھل مل نہ پانا پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ خاموش طبیعت اگر عادت بن جائے تو بچے سوشل فوبیاکے شکار بھی ہو سکتے ہیں سب سے پہلے توان اسباب کا پتہ لگائیں کہ بچہ کم کیوں بولتاہے اس کا نیچر ایسا کیوں بن گیا ہے لہذا اسے اظہار خیال میں دقت محسوس ہوتی ہے بچہ شرم کے مارے کچھ نہیں بول رہا ۔بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں قدرتی طور پر بدلتے جاتے ہیں اگر عمر کے ساتھ ساتھ یہ تبدیلی نہیں آرہی ہے توغور کرنے کی ضرورت ہے ۔Copyright Dailyaag - All Rights Reserved