واشنگٹن: امریکا کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے خلا سے زمین تک سورج کی روشنی پہنچا کر اسے فروخت کرنے کا غیر معمولی منصوبہ پیش کیا ہے، جس نے سائنسی اور ماحولیاتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کیلیفورنیا میں قائم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ہزاروں آئینوں کو زمین کے مدار میں بھیج کر سورج کی روشنی کو مخصوص علاقوں کی طرف منعکس کرنے کی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 60 فٹ چوڑا تجرباتی آئینہ خلا میں بھیجا جائے گا جس کے لیے رواں سال موسم گرما تک اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس آئینے کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ سورج کی روشنی کو زمین کی جانب موڑ کر تقریباً 3 میل یعنی 4.8 کلومیٹر کے علاقے کو روشن کر سکے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے متعدد مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں شمسی توانائی کے پلانٹس کو 24 گھنٹے بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانا، قدرتی آفات کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران روشنی فراہم کرنا اور مستقبل میں روایتی اسٹریٹ لائٹس کا متبادل فراہم کرنا شامل ہے۔
اس منصوبے کے لیے کمپنی نے امریکی ریگولیٹری اداروں سے سیٹلائٹ لائسنس کے حصول کے لیے درخواست بھی دے دی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اب تک 28 ملین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ بھی حاصل کی جا چکی ہے، جس سے اس منصوبے کی ابتدائی تیاریوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بین نوویک کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے جو مستقبل میں فوسل فیول پر انحصار کم کرنے میں مدد دے اور توانائی کی عالمی ضروریات کو زیادہ پائیدار انداز میں پورا کر سکے۔
تاہم اس منصوبے پر بعض سائنس دانوں نے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق رات کے وقت مصنوعی روشنی کے بڑے پیمانے پر استعمال سے جنگلی حیات، قدرتی ماحول اور حیاتیاتی نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خلا میں آئینوں کے ذریعے روشنی منعکس کرنے کا تصور بالکل نیا نہیں۔ 1993 میں روس نے ایک سیٹلائٹ کے ذریعے ایسا تجربہ کیا تھا جس میں خلا میں نصب آئینے سے سورج کی روشنی زمین پر منعکس کی گئی تھی اور اس کی چمک 2 سے 3 پورے چاند کے برابر بتائی گئی تھی۔