امروہہ : امروہہ میں منریگا بدعنوانی میں کارروائی کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔ تحقیقات میں ٹیم انڈیا کے تیز گیند باز محمد سمیع کی بہن شبینہ اور ان کے سسرال کے کئی لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ شبینہ، ان کے بہنوئی غزنوی اور کچھ دیگر رشتہ داروں کو منریگا مزدور دکھا کر بھاری رقم لینے کا معاملہ ہے۔
شبینہ کی ساس گل عائشہ سے 8.68 لاکھ روپے وصول کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ڈی ایم نے اس وقت کے تین پنچایت سکریٹریز اوما، انجم اور پرتھوی، اے پی او برج بھان سنگھ سمیت آٹھ افسران اور ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس وقت کی بی ڈی او پرتیبھا اگروال کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے لئے حکومت کو خط لکھا گیا ہے۔ ڈی ایم نے ان سبھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
کرکٹر محمد سمیع کی بہن شبینہ کی ساس ہی منریگا میں دھاندلی سے جڑے پلولا گاؤں کی پردھان ہیں ۔ معاملے کی تحقیقاتی کمیٹی نے بدھ کو ڈی ایم کو رپورٹ سونپ دی ہے۔ تحقیقات میں کمیٹی نے اس وقت کے بی ڈی او اور چار سکریٹریوں سمیت 11 لوگوں کو فرضی واڑہ کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
جانچ رپورٹ ملنے کے بعد ڈی ایم نے بی ڈی او اور ایک سکریٹری کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کرنے اور تین سکریٹریوں سمیت آٹھ ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیز، پردھان گل عائشہ سے منریگا اجرت کے تحت نکالے گئے 8.68 لاکھ روپے کی وصولی کے لیے کہا گیا ہے۔ پردھان کے طور پر ان کے اختیارات ختم کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی ایم ندھی گپتا وتس نے کہا کہ قصوروار ملازمین کے خلاف معطلی کی کارروائی بھی کی جائے گی۔ ڈی ایم نے اس معاملے کی جانچ پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈی سی منریگا امریندر پرتاپ سنگھ کو سونپی تھی۔
کمیٹی گزشتہ ایک ہفتے سے منریگا میں ہونے والی جعل سازی کے ہر پہلو کی جانچ کر رہی تھی۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پردھان کے خاندان کے آٹھ افراد سمیت کل 18 لوگوں نے بغیر کام کئے 8.68 لاکھ روپے کی رقم نکال لی تھی۔ اس میں بلاک ملازمین بھی قصوروار پائے گئے ہیں۔