کیا اداریہ واقعی پرانا اور بیکار فارمیٹ تھا، یا پھر جنگ کا یہ فیصلہ عوامی احتساب اور آزادیِ اظہار کی ایک اہم روایت کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے؟
روزنامہ جنگ کی انتظامیہ نے سالہاسال سے اخبار میں چھپنے والے اداریے کو مستقل بند کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دنیا کے بڑے بڑے اخبارات نے اپنے اداریے بند کر دیے ہیں، اس لیے جنگ نے بھی اپنا اداریہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘









