گالیوں کے استعمال سے متعلق بحث، ذاکر خان کا جاوید اختر کے بیان پر ردِعمل
کامیڈین ذاکر خان نے معروف نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر کے بیان کے بعد کامیڈی میں گالیوں کے استعمال پر جاری بحث پر اپنا مؤقف پیش کردیا۔

یہ بحث کامیڈین سپن ورما کے شو میں جاوید اختر کی شرکت کے دوران شروع ہوئی تھی، گفتگو کے دوران 80 سالہ جاوید اختر نے کہا تھا کہ کامیڈینز اپنی پرفارمنس میں گالیوں کا سہارا کیوں لیتے ہیں۔
جاوید اختر کے مطابق گالی زبان کی مرچ ہے، جب بات چیت میں گہرائی یا ذہانت کی کمی ہو تو اسے دلچسپ بنانے کے لیے سخت الفاظ شامل کر دیے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے پھیکے کھانے میں مرچ ڈال دی جاتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں وسائل کی کمی یا غربت ہوتی ہے وہاں مسالے دار کھانے زیادہ عام ہوتے ہیں تاکہ سادگی کی کمی پوری کی جا سکے۔
اسٹینڈاپ کامیڈین ذاکر خان بیمار، اسٹیج شوز سے وقفہ لینے کا اعلان
جاوید اختر نے مزید کہا کہ ایک ذہین اور حاضر جواب شخص کو اس مرچ کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ مضبوط زبان اور فکری گہرائی خود کافی ہوتی ہے۔
ذاکر خان نے جاوید اختر کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگرچہ ان کے خیالات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم کامیڈینز کو ان کے اندازِ مزاح کی بنیاد پر نشانہ بنانا یا کسی ایک معیار میں پرکھنا درست نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ذاکر خان نے کہا کہ میں جاوید اختر کو بےحد عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور بھارتی سنیما و ادب کے لیے ان کی خدمات کا معترف ہوں۔








