فرید آباد : دہلی دھماکے کی تحقیقات کے دوران این آئی اے اور پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 10 نومبر کے دہشت گردی نیٹ ورک سے جڑے مرکزی ملزم ڈاکٹر مزمل گنائی کے فریدآباد میں دو مزید خفیہ ٹھکانے موجود تھے، جو پہلے سامنے نہیں آئے تھے۔
یہ ٹھکانے الفلاح یونیورسٹی کے آس پاس قائم کیے گئے تھے جہاں مزمل ملازمت کر رہا تھا اور جہاں سے جے اینڈ کے پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، فریدپور ٹگا اور دھوج میں کرایہ کے ٹھکانوں کے علاوہ مزمل نے غوری جمالپور گاؤں کے سابق سرپنچ جما خان سے بھی ایک مکان کرایہ پر لیا تھا۔
اس نے جما خان کو بتایا تھا کہ وہ یہاں ’’کشمیری فروٹ بزنس‘‘ شروع کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اسے رہائش درکار ہے۔ یہ مکان تین کمروں، ایک ہال اور کچن پر مشتمل تھا اور الفلاح یونیورسٹی سے تقریباً 4 کلومیٹر کی دوری پر واقع تھا۔
مزمل نے یہ مکان اپریل سے جولائی تک تقریباً تین ماہ کے لیے ماہانہ 8 ہزار روپے کرایہ پر استعمال کیا۔
یہ مکان جما خان کی پلاسٹک خام مال فیکٹری کے بالائی حصے میں بنا ہوا تھا۔ این آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم حال ہی میں مزمل کو تفتیش کے سلسلے میں اسی گھر لے کر گئی، جہاں جما خان سے کئی گھنٹے سوالات کیے گئے۔
تفتیش کے دوران، جما نے بتایا کہ ان کی مزمل سے پہلی ملاقات الفلاح اسپتال میں ہوئی تھی، جہاں ان کا بھانجا کینسر کے علاج کے لیے داخل تھا۔ انہوں نے کہا، “اس نے تین ماہ بعد گھر یہ کہہ کر خالی کیا کہ گرمی بہت زیادہ ہے۔”
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مزمل نے تقریباً 12 دن تک دھماکہ خیز مواد ایک کسان کی زمین پر بنائے گئے ایک چھوٹے سے کمرے میں ذخیرہ کیا تھا۔
بعد ازاں اس نے یہ مواد فریدپور ٹگا کے ایک مکان میں منتقل کیا، جو مقامی مذہبی رہنما اشتیا ق کے گھر میں واقع تھا۔ مزید مقامات کی تلاش اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے۔