گرڈیہہ: چھوٹے لال نام کا ایک شخص بیوی کو لینے اپنی سسرال گیا۔ اسی دوران اس کا سسرال والوں سے ایک بات پر جھگڑا ہو گیا۔ جس پر اس نے بیوی کا قتل کر دیا۔
وہیں واردات انجام دے کر بھاگ رہے شوہر کو سسرال والوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔ یہ واقعہ مفصل تھانہ حلقے کے لوکائیہ میں پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے دوہرے قتل کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی پی او جیتواہن اراون اور انسپکٹر کم مفصل تھانے کے انچارج شیام کشور مہتو سب انسپکٹر سنجے کمار کے ساتھ موقعے پر پہنچے اور جانچ شروع کی۔ پہلے پولیس نے اس کمرے کی تلاشی لی جہاں مینا ہنسدا نام کی خاتون کو قتل کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے جائے وقوع سے قتل میں استعمال کی گئی چاقو برآمد کر لیا۔
اس بات پر ہوا جھگڑا
اس کے بعد پولیس نے مقتولہ کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کی جس میں اس واردات کی وجہ سامنے آئی۔ مقتولہ کے والد چندلال مرمو نے بتایا کہ ان کا داماد مینا کو لینے کے لیے آیا تھا اور اپنے ساتھ گھر لے جانے پر ضد کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ تم اپنے والدین کو لے آؤ، ہم ان کے ساتھ بیٹی کو رخصت کر دیں گے۔ اسی بات پر بیٹی اور داماد کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ ہم لوگوں نے دونوں کو خاموش کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد دونوں گھر کے صحن میں پھر سے لڑنے لگے۔
لڑائی کے دوران ہوا بیٹی کا قتل: چندلال مرمو
ابھی میں صحن سے کچھ فاصلے پر فون پر بات کر رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنی بیٹی کی چیخ سنائی دی اور میں صحن کی طرف گیا تو دیکھا کہ میری بیٹی کے پیٹ سے خون بہہ رہا ہے۔ اسی دوران میری بیٹی پر وار کرنے کے بعد داماد بھاگنے لگا لیکن کچھ لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔ مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا داماد چاقو کہاں سے لایا؟ چندلال مرمو نے بتایا کہ بیٹی اور داماد کی ایک چھ سال کی بیٹی بھی ہے۔
پولیس مقتولہ کے ماں باپ سے پوچھ گچھ میں مصروف
واقعے کے بعد پولیس موقعے پر پہنچی اور مقتولہ مینا کے والد چندلال مرمو، ماں شانتی دیوی اور کچھ گاؤں والوں کو تھانے لے آئی۔ یہاں کیس سے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ واقعہ کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟ کیا اس میں کوئی اور بھی پہلو ہے یا کوئی چیز چھپائی جا رہی ہے، اس کی جانچ میں پولیس مصروف ہے۔
گرڈیہ صدر کے ایس ڈی پی او جیتواہن اراون کے مطابق ”مقتولہ کے گھر والوں کے مطابق بیوی کو قتل کرنے کے بعد موقعے سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے شوہر کو ان لوگوں نے قتل کر دیا۔ پولس اس معاملے میں کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔”