احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ میں طلاق کا ایک عجیب معاملہ سامنے آیا ہے۔ پوا یہ کہ لہسن اور پیاز پر میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا۔ شوہر نے ظلم کی بنیاد پر فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی جسے فیملی کورٹ نے منظور کر لیا۔
اہلیہ نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تو عدالت نے اس کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
کیا ہے سارا معاملہ؟
خبر کے مطابق ایک خاتون کی شادی 2002 میں ہوئی تھی تاہم اسے اپنے سسرال والوں کے لہسن اور پیاز کھانے پر اعتراض تھا۔ چونکہ وہ ایک مختلف برادری سے تعلق رکھتی تھی، اس لیے اس نے اصرار کیا کہ گھر والے بھی لہسن اور پیاز کھانا چھوڑ دیں۔
جب ایسا نہ ہوا تو 2013 میں ایک دن شوہر اور بیٹے کے بارے میں سوچے بغیر اکیلی گھر سے نکل گئی۔ جس کے بعد شوہر نے عدالت میں طلاق کی درخواست دائر کی جسے فیملی کورٹ نے قبول کرتے ہوئے شوہر کو طلاق کی منظوری دے دی۔
بیوی کا تعلق ایک الگ کاسٹ اور فرقے سے
پورے کیس کے بارے میں ایڈووکیٹ بھونیش روپیرا نے ای ٹی وی بھرت کو بتایا کہ 2002 میں شادی کے بعد یہ جوڑا 2013 تک ساتھ رہے، اس دوران ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔
تاہم میاں بیوی کے درمیان معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے ہوتے رہے۔ بیوی کا تعلق ایک الگ کاسٹ اور فرقے سے تھا، اس لیے اس نے خود پیاز اور لہسن کھانے سے انکار کر دیا اور گھر کے دوسرے لوگوں کو بھی ان سے پرہیز کرنے کی تاکید کی۔
ظلم کی بنیاد پر طلاق کی درخواست
اس کی وجہ سے اس مسئلے پر اکثر معمولی جھگڑے اور اختلافات ہوتے رہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے بیوی 2013 میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر گھر سے چلی گئی۔
اس کا بیٹا بھی اس کے شوہر کے پاس ہی تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو بھی پیچھے چھوڑنے تیار تھی۔ اس کے بعد شوہر نے ظلم کی بنیاد پر طلاق کی درخواست دائر کی۔
فیملی کورٹ نے ظلم ثابت ہونے پر طلاق دے دی۔ بیوی نے اس کے خلاف گجرات ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ لیکن ان کی اپیل یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی گئی ہے کہ فیملی کورٹ کی طرف سے دیا گیا آبزرویشن اور فیصلہ درست ہے۔