حماس نے پیر کو سات اسرئیلی قیدیوں کو ریڈ کراس کی تحویل میں دے دیا جو دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کے درمیان ہونے والے تاریخی فائر بندی معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے پہلے قیدی ہیں۔
\
اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پیر کو خطے میں پہنچے، جہاں وہ اسرائیل اور مصر میں علاقائی رہنماؤں کے ساتھ امریکی تجویز کردہ امن معاہدے اور جنگ کے بعد کے انتظامات پر بات چیت کریں گے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، حماس نے شمالی غزہ کے ایک مقام پر قیدیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے سپرد کیا۔ فوج نے کہا کہ باقی قیدیوں کی رہائی بعد میں عمل میں آئے گی۔
ریڈ کراس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ’کئی مرحلوں پر مشتمل کارروائی‘ شروع کر دی ہے تاکہ فائر بندی کے تحت قیدیوں اور قیدیوں کے تبادلے کی نگرانی کی جا سکے۔ ادارے کے مطابق وہ قیدیوں کو غزہ سے اسرائیلی حکام کے حوالے کرے گا جب کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور ان کی مغربی کنارے یا غزہ واپسی کی نگرانی بھی کرے گا۔
حماس نے پیر کی صبح 20 زندہ قیدیوں اور 1,900 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی فہرستیں بھی جاری کیں جنہیں فریقین فائر بندی کے تحت رہا کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔
حماس کی جانب سے پہلے مرحلے میں سات قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
Gaza Red cross
بین الاقوامی ریڈ کراس کے نشان والی بسیں 13 اکتوبر 2025 کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس سے مشرقی غزہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ یہ بسیں اُن اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے جا رہی ہیں جنہیں حماس نے دو سال قبل 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران پکڑا تھا (اے ایف پی)
اسرائیلی ٹی وی چینلز پر یہ خبر آتے ہی اہل خانہ اور عوام خوشی سے جھوم اٹھے، جب کہ تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات میں ہزاروں افراد نے رہائی کے مناظر دیکھے۔
ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازیں گے۔
بیان کے مطابق یہ اعزاز ٹرمپ کی ’قیدیوں کی رہائی، اسرائیل کی سلامتی اور خطے میں امن و تعاون کے فروغ‘ میں خدمات کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر بھی مصر پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ امریکہ اور مصر کے زیر اہتمام غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امن سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
وزیراعظم ہاؤس سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ کا دورہ کر رہے ہیں۔