نئی دہلی : گوا کے نائٹ کلب میں آگ لگنے کے چند گھنٹے بعد ہی ہندوستان سے فرار ہونے والے نائٹ کلب کے مالک گورو اور سوربھ لوتھرا کو تھائی لینڈ کے فوکیٹ میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہیں جلد وطن واپس لایا جائے گا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے ان کے پاسپورٹ معطل کیے جانے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ پاسپورٹ سسپنڈ ہونے کے بعد ان کے بین الاقوامی سفر پر پابندی لگا دی گئی تھی اور انہیں واپس لانے کے لیے ہندوستان کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
گرفتاری سے بچنے کے لیے دونوں بھائی آگ لگنے کے چند ہی گھنٹے کے بعد ہندستان سے فرار ہوگئے تھے۔ یہ آگ 6 دسمبر کی صبح ان کے ارپورہ نائٹ کلب میں لگی تھی، جس سے حفاظتی ضوابط کی تعمیل پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔
تحقیقات میں تعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جن میں لازمی فائر سیفٹی، نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ کی کمی، پر ہجوم اور تنگ خارجی دروازے شامل تھے، جن سے لوگوں کو باہر نکلنے میں دشواری پیش آئی۔
وزارت خارجہ کی درخواست کے بعد ان کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور انہیں دوسرے ملک جانے سے روکنے کے لیے انٹرپول بلیو کارنر نوٹس جاری کیا گیا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے دونوں بھائیوں نے دہلی ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دی تھی۔ عدالت نے بدھ کو روز لوتھرا برادران کو کوئی راحت نہیں دیا اور انہیں کوئی فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی تھی۔
دریں اثنا، گوا پولیس نے جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر شریک مالک اجے گپتا کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔ اس معاملے میں مینیجر اور کلیدی آپریٹر سمیت عملے کے کئی ارکان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
وزارت خارجہ کے حکام نے تصدیق کی کہ پاسپورٹ کی معطلی پاسپورٹ ایکٹ 1967 کے سیکشن 10اے کے تحت کی گئی تھی، جو نہ صرف سفر کو کالعدم قرار دیتا ہے بلکہ حکومت ہند کو تھائی حکام کے ساتھ ان کی واپس بھیجنے کی کارروائی شروع کرنے کے بھی قابل بناتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزارت خارجہ کو دونوں بھائیوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کے لیے گوا حکومت سے باضابطہ مکتوب موصول ہوا تھا، جس پر موجودہ قانونی التزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
اس آگ میں عملے کے ارکان اور سیاحوں سمیت 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ گوا پولیس اور انتظامیہ پر بھی اس معاملے کے حوالے سے انگلیاں اٹھی تھیں اور ملک بھر کی سیاحتی انجمنوں نے اس واقعہ پر غم کا اظہار کیا تھا۔