ناسا نے اعلان کیا کہ رواں سال جون میں 4 خلائی رضاکار مریخ جیسے تھری ڈی پرنٹڈ خیمے میں زندگی گزارنے والے پہلے انسان ہوں گے۔ویسے یہ جان لیں کہ مریخ پر جانے کے لیے کافی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ زمین کے ساتھ ساتھ ہمارا پڑوسی سیارہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، جس کے دوران وہ کبھی ایک دوسرے کے قریب ترین آجاتے ہیں تو کبھی دور۔
اسی کو مدنظر رکھ کر مخصوص ایام میں مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ناسا کی ویب سائٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارہ چاہتا ہے کہ مستقبل میں مریخ پر انسانوں کو اتارنے کے لیے درکار صلاحیت اور ٹیکنالوجی تیار کی جاسکے۔









