تیانجن/نئی دہلی : امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر درآمدی ٹیکس عائد کرنے کے اعلان سے دنیا بھر میں پیدا ہوئیں تشویشات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور روس ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ان کی شراکت داری دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔
چین کے اپنے دو روزہ دورے کے آخری دن، مسٹر مودی نے پیر کو یہاں تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے 25ویں سربراہی اجلاس کے اختتام کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے دوران روس-یوکرین تنازعہ کے جلد از جلد خاتمے کی امید بھی ظاہر کی۔ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باقاعدہ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا ’’ہم مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر کئی اعلیٰ سطحی میٹنگیں بھی ہوئی ہیں۔ 140 کروڑ ہندوستانی اس سال دسمبر میں ہونے والی ہماری 23ویں چوٹی کانفرنس کے لیے آپ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں اور یہ ہماری خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی گہرائی اور وسعت کی عکاسی ہے۔‘‘
مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہندوستان اور روس کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور روس ہمیشہ مشکل ترین حالات میں بھی کندھے سے کندھا ملا کر چلتے رہے ہیں۔ ہمارا قریبی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے لوگوں کے لیے بلکہ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ہے۔‘‘
روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے جاری تنازعہ کے جلد حل کی امید کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین میں جاری تنازعہ پر مسلسل بات چیت کرتے رہے ہیں، ہم امن کی حالیہ تمام کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریق تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے، تنازعہ کو جلد از جلد ختم کرنے اور مستقل امن کے قیام کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا، یہ پوری انسانیت کی پکار ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستان نے ہمیشہ اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔
اس سے پہلے اتوار کو مسٹر مودی نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی دو طرفہ میٹنگ کی تھی۔