بھارت نے اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیت لیا اور مسلسل دو بار ٹرافی جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ میزبان ٹیم نے احمد آباد میں کھیلے گئے میگا ایونٹ کے فیصلہ کن معرکے میں نیوزی لینڈ کو آوٹ کلاس کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
بھارت سب سے زیادہ 3 ٹی20 ورلڈکپ جیتنے والی اور ہوم گراؤنڈ پر ٹی 20ورلڈکپ جیتنے والی بھی پہلی ٹیم بن گئی۔
بھارت کے 256 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف تلے نیوزی لینڈ ٹیم دب گئی اور پورٹی ٹیم 159 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور یوں میزبان نے 96 رنز کے بڑے مارجن سے کامیابی سمیٹی۔
کیوی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور ٹم سیفرٹ کے سوا کوئی پلیئر ڈٹ کر نہ کھیل سکا، کپتان سینٹنر نے 43 رنز کی مزاحمت کی جو کسی کام نہ آئی۔
جسپریت بمرا 4وکٹیں حاصل کر کے فائنل کے ہیرو قرار پائے جب کہ سنجو سیمسن 5اننگز میں 321 رنز بنا کر ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی بنے۔
میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان سینٹنر نے ٹاس جیتا اور فیلڈنگ کو ترجیح دیتے ہوئے بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو بھارتی بیٹرز نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے بولرز پر دھاوا بول دیا۔
سنجو سیمسن اور ابھیشیک شرما پر مشتمل اوپننگ جوڑی نے لاٹھی چارج شروع کیا اور 98 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا جس میں بائیں ہاتھ کے بلے باز ابھیشیک نے 18 رنز پر ففٹی بنائی اور 52 رنز کی باری کھیل کر کیچ آؤٹ ہوئے۔
سنجو سیمن 89 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے جب کہ ایشان کشن نے صرف 25 گیندوں پر 54 رنز بنائے۔ آخر میں شیون ڈوبے نے رہی سہی کسر نکالی انہوں نے صرف 8 گیندوں پر 26 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی، ہاردک پانڈیا 18 اور تلک ورما نے 8 رنز بنائے۔ بھارتی کپتان سوریا کماریادیو پہلی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے جمی نیشم نے 46رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جب کہ راچن رویندرا اور میٹ ہنری ایک، ایک وکٹ حاصل کر سکے۔
دوسری وکٹ پر ایشان کشن نے سنجو سیمسن کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں نے مل کر رنز کی رفتار کو مزید تیز کرتے ہوئے 105 رنز کی شراکت داری قائم کر کے مجموعے کو 203 تک پہنچایا۔