تھرلر، سسپنس، ایکشن اور سماجی مسائل پر بنائی گئی فلموں میں منفرد کردار ادا کرکے شہرت حاصل کرنے والے بھارت کے لیجنڈری اداکار، پروڈیوسر و ہدایت کار منوج کمار 87 برس کی عمر میں چل بسے۔
’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق منوج کمار زائد العمری کے باعث طویل عرصے سے مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار تھے جب کہ حالیہ کچھ عرصے میں انہیں عارضہ جگر بھی لاحق ہوا، جس سے ان کی صحت آئے روز بگڑتی رہی۔
منوج کمار کو 3 اپریل کی شب ممبئی کے نجی ہسپتال میں لایا گیا تھا، جہاں وہ 4 اپریل کی علل الصبح ہارٹ اٹیک کے باعث چل بسے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت متعدد بولی وڈ شوبز شخصیات نے منوج کمار کے انتقال کی خبریں شیئر کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔
آنجھانی اداکار کے بیٹے کے مطابق ان کے والد کچھ ہفتوں سے زیادہ علیل تھے لیکن شکر ہے کہ انہوں نے پرسکون حالت میں زندگی کو الوداع کہا۔
منوج کمار تقسیم برصغیر سے قبل ہی امرتسر میں 1937 میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔
ان کا شمار بھارت کی ہندی فلم انڈسٹری کے اولین ہیروز میں ہوتا ہے، انہیں حب الوطنی پر بنائی گئی فلموں میں کردار ادا کرنے کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔
منوج کمار کا اصل نام ہری کرشنن گوسوامی تھا اور وہ ہندی فلموں کے 1960 سے 1975 کے مقبول ترین اداکاروں میں سے ایک تھے۔
انہیں دادا بھائی پاٹھک سمیت دیگر بھارتی سرکاری ایوارڈز سے بھی نوازا گیاجب کہ انہوں نے اپنی اداکاری کے باعث متعدد دیگر فلمی ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔
منوج کمار نے اداکاری کے علاوہ فلموں کو پروڈیوس بھی کیا جب کہ انہوں نے ایک درجن کے قریب فلموں کی ہدایات بھی دیں۔
منوج کمار نے بطور اداکار درجنوں فلموں میں کام کیا، ان کی معروف فلموں میں ’وہ کون تھی، شادی، فیشن، سہارا، پنچائت، کانچ کی گڑیا، پیا ملن کی آس، ریشمی رومال، بنارسی ٹھگ، ماں بیٹا، گمنام، پونم کی رات، پتھر کے صنم، آدمی، میرا نام جوکر، روٹی کپڑا اور مکان، کرانتی، مجھے انصاف چاہیے اور سنتوش‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
بطور اداکار منوج کمار نے آخری بار 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم ’میدان جنگ‘ میں کردار ادا کیا تھا۔