نئی دہلی : کانگریس نے پیر کے روز کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اب گاندھیائی نظریے کے قتل پر اتر آئی ہے اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے سر جھکانے والی بی جے پی-آر ایس ایس نے باپو کے پوتے کی بھی توہین کی ہے۔
کانگریس کے میڈيا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے آج یہاں پریس بیان میں کہا، “آر ایس ایس کے اشارے پر قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت اب مہاتما گاندھی کے پوتے تشار گاندھی کی توہین پر اتر آئی ہے۔
گاندھی جی نے کسانوں کے استحصال کے خلاف احتجاج کرکے جس چمپارن کی سرزمین کو دنیا کے نقشے پر لادیا تھا، ان کے پرپوتے تشار گاندھی کو چمپارن کی اسی سرزمین پر کمیونٹی ہال سے باہر نکال دیا گیا ۔”
انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے سر جھکانے کا ڈرامہ کرنے والے بی جے پی اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے لیڈران کو گاندھیائی نظریے والوں کی میٹنگ بھی منظور نہیں ہے۔ حکومت کے اشارے پر تشار گاندھی کے لیے ناشائستہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔
تشار گاندھی نے عوامی فیصلے کے نظام کی چوری روکنے کے لیے پریورتن یاترا شروع کی ہے۔ انتخابی دھاندلی کے معاملے پر بے شرمی سے سامنے آنے والی بی جے پی-جے ڈی یو حکومت بوکھلا گئی ہے اور جمہوریت کا قتل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی مہم سسے 135 سالہ استحصال کی کھیتی کا خاتمہ ہوا تھا اور اسی طرح 20 سالہ جابرانہ حکومت کا خاتمہ بھی عن قریب ہونے والا ہے۔
کانگریس ترجمان نے کہا، “کانگریس بی جے پی-آر ایس ایس کے اس طرز عمل کے خلاف لڑتی رہے گی اور توہین کے باوجود عدم تشدد کی جدوجہد جاری رہے گی، ہم ووٹ بندی نہیں ہونے دیں گے۔”