اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایران اور حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کے لیے فوج کو کھلی چھوٹی دیدی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم اور وزیر دفاع نے فوج کو غیر معمولی اختیارات دیتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ جہاں بھی انٹیلی جنس معلومات دستیاب ہوں وہاں اجازت لیے بغیر فوری طور پر ایرانی یا حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنایا جائے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اس نئی ہدایت کے تحت فوج کو اب ایسے اہداف پر حملے کے لیے معمول کے سیاسی اور عسکری منظوری کے مراحل کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی فضائی مہم کے دوران آپریشنل کارروائیوں میں تاخیر کو روکنا ہے تاکہ کسی اچھے نادر موقع کو ضائع نہ کیا جائے۔
خیال رہے کہ حالیہ ہدایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ایران کی اہم اور طاقتور ترین شخصیات چیف سیکیورٹی انچارج علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے شہر شیراز اور دیگر علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں ایران کے نیم فوجی دستے بسیج فورس کے کئی کمانڈرز اور بڑی تعداد میں اہلکار بھی مارے گئے۔
اسرائیلی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی بسیج فورس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ جس نے حکومت کے مخالف مظاہروں کو طاقت کے ذریعے سختی سے کچلا تھا۔
وزیراعظم نیتن یاہو اس سے پہلے بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں ایرانی عوام حکومت کے خلاف بغاوت کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق میزائل حملے انتہائی منظم انداز میں کیے گئے اور کمپاؤنڈ کے اندر متعدد مقامات کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ تین میزائل براہ راست سپریم لیڈر کی رہائش گاہ پر گرے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے گھر کے علاوہ ان کے داماد مصباح الہدی باقری کنی کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوسرے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای اور ان کی اہلیہ کے گھر بھی حملے کی زد میں آئے۔
حملے کے وقت علی خامنہ ای کمپاؤنڈ کے اندر اعلیٰ سکیورٹی اور عسکری حکام کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے۔ اسی دوران ہونے والے میزائل حملوں میں متعدد اہم شخصیات ہلاک ہو گئیں جن میں ایرانی عسکری قیادت کے اہم عہدیدار بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ ان کی جانب سے صرف ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا جو سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہوا۔
ان کی غیر موجودگی نے ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ ممکن ہے مجتبیٰ خامنہ ای کے زخم تہران کے دعوؤں سے زیادہ سنگین ہوں۔