بنگلورو: ایک بڑی تبدیلی میں کرناٹک حکومت 2028 تک پرائیویٹ آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں اور تیسرے فریق یا بچولیوں کے ذریعے سرکاری ملازمین کی تقرری کے سسٹم کو ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اس بارے میں حکومت 8 دسمبر کو بیلگاوی میں شروع ہونے جا رہے ریاستی اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں ایک بل — کرناٹک پرائیویٹ آؤٹ سورسنگ ان گورنمنٹ انٹٹیز بل — پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ فیصلہ نجی ایجنسیوں کے ذریعہ آؤٹ سورس کیے گئے ملازمین کے استحصال کے بارے میں بے شمار شکایات کے بعد لیا گیا ہے۔ ان شکایات میں تنخواہوں، پی ایف (پراویڈنٹ فنڈ)، ای ایس آئی، اور دیگر فوائد میں کمی کے مسائل شامل ہیں۔ سرکاری محکموں میں اسامیوں کو پر کرنے کی بڑھتی ہوئی مانگ نے بھی اس فیصلہ میں مدد کی ہے۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ “ملازمین کی آؤٹ سورسنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ دو مقاصد کے ساتھ لیا گیا۔ ایک یہ کہ حکومت میں موجودہ اسامیوں کو پُر کرنا ہے اور دوسرے یہ کہ آؤٹ سوسنگ کی آڑ میں ہونے والی بدعنوانیوں اور پرائیویٹ ایجنسیوں کے بھرتی کیے گئے ملازمین کی پریشانیوں کو ختم کرنا۔”
سال 2022-23 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق 43 سرکاری محکموں میں منظور شدہ 769,982 عہدوں میں سے 258,709 آسامیاں ہیں۔ ان آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے تمام محکموں نے مل کر 300,000 سے زیادہ آؤٹ سورس ملازمین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ نجی آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ساتھ تمام موجودہ انتظامات اور معاہدے بتدریج 31 مارچ 2028 کی کٹ آف تاریخ تک مکمل ہو جائیں گے۔ تب تک، حکومت نے آؤٹ سورس افرادی قوت کو منظم کرنے کے لیے ریاست بھر میں “بیدار ماڈل” کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیدر ماڈل کیا ہے؟
اس ماڈل کے تحت نجی ایجنسیوں کے کردار کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کوآپریٹو سوسائٹی کے ذریعے کنٹریکٹ ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات براہ راست ادا کی جائیں گی۔
لیبر ملٹی پرپز کوآپریٹیو سوسائٹی کے بیدر ڈسٹرکٹ سروسز کے سکریٹری ارجن سیتالاگر کہتے ہیں کہ “آؤٹ سورس اسٹاف کی تقرری کے بعد تمام محکمے اپنے نام سوسائٹی کو بھیجتے ہیں۔ بعد ازاں سوسائٹی ان ناموں کا اندراج کرے گی اور انہیں تنخواہیں ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ساتھ پی ایف اور ای ایس آئی کی بروقت ادائیگی کرے گی۔”
ارجن نے کہا کہ یہ نظام آؤٹ سورس عملے کو ایجنسیوں کے ذریعہ ہراسانی اور استحصال سے بچائے گا، جن پر اکثر کم از کم اجرت سے کم ادائیگی اور پی ایف اور ای ایس آئی سے جوڑنے میں تاخیر کا الزام لگایا جاتا ہے۔
فی الحال، تقریباً 3,000 آؤٹ سورس اسٹاف سوسائٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ارجن کہتے ہیں، “ہم ان تمام ملازمین کے لیے ہر مہینے کی 15 تاریخ تک پی ایف اور ای ایس آئی کا حصہ ادا کر رہے ہیں۔ تنخواہیں بھی وقت پر ادا کی جا رہی ہیں۔ ہم ہر ماہ 18٪ جی ایس ٹی بھی وقت پر ادا کر رہے ہیں۔”
لیبر منسٹر سنتوش لاڈ نے کہا کہ بیدر ماڈل کو اپنانے سے نہ صرف ان مزدوروں کے مفادات کا تحفظ ہوگا بلکہ حکومت کو اپنی آؤٹ سورس ورک فورس کے بارے میں درست اور شفاف ڈیٹا بھی فراہم ہوگا۔ انہوں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا، “فی الحال، ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ ریاست بھر کے سرکاری محکموں میں کتنے آؤٹ سورس ملازمین کام کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ ایجنسیوں کی طرف سے فراہم کردہ نمبروں کی تصدیق کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ بیدر ماڈل اس مسئلے کو حل کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔”