سرینگر : ڈل جھیل کے کنارے اور زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ’نہرو میموریل بوٹنیکل گارڈن‘ کے بیچوں بیچ واقع ’باغ گل داؤد‘ (کراسنتھمیم گارڈن) ان دنوں لوگوں خاص کر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ وادی میں اپنی نوعیت کا ایسا پہلا باغ ہے جو کہ موسم خزاں میں گل داؤد کے تھیم پر تیار کیا گیا ہے۔ سو کنال اراضی پر محیط اس باغ میں گل داؤد کے ایک لاکھ پودے لگائے گئے ہیں جن پر اس وقت 30 لاکھ رنگ برنگے پھول اپنے جوبن پر ہیں۔
دراصل ’باغ گل داؤد‘ کی گزشتہ برس نومبر میں بنیاد ڈالی گئی تاکہ سیاحوں کو نہ صرف یہاں خزاں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملے بلکہ ان پھولوں کی دلکشی اور خوبصورتی سے بھی محظوظ ہو سکیں۔
کشمیر میں اس وقت خزاں (پت جڑھ) کا موسم ہے اور ہر سو درختوں سے پتے گرنے شروع ہو جاتے ہیں اور بیشتر پھول بھی مرجھائے نظر آتے ہیں، جس سے درخت برہنہ اور زرخیز زمین و باغات سونے معلوم ہوتے ہیں، تاہم اکتوبر میں گل داؤد کے یہ رنگین پھول ماحول میں دوبارہ رنگ بھرنے اور دیکھنے والے کو معطر کرتے ہیں۔
ہر رنگ کے پھول
فلوریکلچر آفیسر جاوید مسعود کہتے ہیں کہ ’’گل داود‘‘ موسم خزاں کے پھول ہیں اور یہ اسی موسم میں کھلتے ہیں اور یہ پھول باغات اور گھریلوں پارکوں کے خلا کو دور کرتے ہیں جو ہمیں خزاں میں زمینی سطح کو دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: ’’گل داؤد کی قسم میں تقریباً ہر رنگ کے پھول کھلتے ہیں لیکن سرخ، پیلا اور نارنگی اس پھول کے بنیادی رنگ ہیں۔‘‘
وادی کشمیر اپنی بے پناہ خوبصورتی اور دلکشی سے جہاں دنیا بھر میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے، وہیں یہ بدلتے موسموں کی وجہ سے بھی جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں کے موسم بھی بڑے نرالے ہوتے ہیں۔ موسم سرما ہو یا گرما، بہار ہو یا خزاں، ہر موسم میں کشمیر اپنے حسن کا الگ رنگ بکھیرتا ہے۔ اور یہی وہ حسن ہے جو وادی کی سیر کرنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔
خزاں میں کشمیر کی سیر پر آئے سیاح ان دنوں باغ گل داؤد کی سیر کرنا نہیں بھولتے۔ ممبئی سے آئی ایک خاتون سیاح یاسمین بانو نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: ’’پت جڑھ کے اس موسم میں مختلف رنگوں کے پھولوں سے بھرا ہوا ایسا باغ میں نے پہلی بار دیکھا ہے باغ اور پھولوں کی یہ خوبصورتی میرے لیے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔‘‘
’باغ گل داؤد‘ کشمیر میں خزاں میں ایک نئی کشش ثابت ہو رہا ہے اور اس سے سیاحت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ جاوید مسعود کہتے ہیں کہ ’’ہمارے پاس سیاحوں کو اس وقت چنار کے زرد پتوں کو دکھانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا تھا تاہم اب ’باغ گل داؤد‘ اکتبور نومبر میں سیاحوں کو کشمیر کی طرف متوجہ کرنے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔