ایّامِ شہادتِ بنتِ رسول، حضرتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غم میں ڈوبا ہوا شہرِ عزا… ایسے روح پرور ماحول میں آج لکھنؤ میں ایک نہایت اہم اور جذباتی ملاقات انجام پائی۔
امبر فاؤنڈیشن کے چیئرمین وفا عباس سے ملاقات کے لیے نیپال کے سابق جسٹس اور دی مادر فاؤنڈیشن نیپال کے بانی ڈاکٹر صلاح الدین اختر صدیقی لکھنؤ تشریف لائے۔ یہ ملاقات صرف دو اداروں کا مکالمہ نہیں تھی بلکہ انسانیت، محبت اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی گونج تھی۔
ڈاکٹر صدیقی نے امبر فاؤنڈیشن کی خدمات—
چشمہ تقسیم مہم
موتیا بند آپریشن
شدید سردی میں سویٹر تقسیم
غریب بچوں کی فیس امداد
“کلیکٹر بیٹیّا” اور “ڈاکٹر بیٹیّا” جیسے باوقار منصوبے
“حسینی لہو — دیش کے لیے” انسان دوست مشن
اور حضرت علی علیہ السلام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعلیمی اقدامات
—کی بھرپور تحسین کی اور انہیں اصل تعلیماتِ انسانیت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ لکھنؤ کی تمیز، تہذیب، نزاکت اور نفاست کی خوشبو اب نیپال میں بھی پھیلے گی اور اس ملاقات سے دونوں ملکوں کے سماجی رشتوں میں ایک نیا باب لکھا جائے گا۔
وفا عباس نے اس ملاقات کو “روحانی تسلّی” قرار دیتے ہوئے کہا:
“حضرتِ فاطمہ زہرا (س) کی سیرت ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ جہاں درد ہو وہاں مرہم بن جاؤ۔ یہی ہماری تمام خدمات کی بنیاد ہے۔”
دونوں اداروں نے مستقبل میں نیپال اور بھارت کے درمیان سماجی، تعلیمی اور انسانی تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ ملاقات اس پیغام کی تجدید کرتی ہے کہ انسانیت کی راہ سرحدوں سے بڑی ہے اور خدمت کی روشنی ہر حد پار کر جاتی ہے۔