نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے پوری سمجھ بوجھ، بھرپور تیاری اور لگن کے ساتھ اس بل کی مخالفت کی اور مسلمانوں کے موقف کو اور بھی واضح کر دیا۔
اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ اس مسئلے پر اپوزیشن کا اتحاد بہت خوش آئند قدم ہے۔ بورڈ اس بل کے خلاف کھڑے ہونے پر اپوزیشن جماعتوں کے تمام سربراہان اور اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اس کی حساسیت کی سراہنا کرتا ہے۔
وہیں مسلم پرسنل لا بورڈ نے این ڈی اے کی حلیف جماعتوں اور ان کے قائدین بالخصوص نتیش کمار، چندرا بابو نائیڈو، چراغ پاسوان اور جینت چودھری کا طرز عمل کی شدید مذمت کی۔
بورڈ نے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ان کی سیکولر امیج کی وجہ سے ان کی حمایت کی، تاہم انہوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا۔ یہ کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو مسلمان ان جماعتوں سے وابستہ ہیں انہیں اپنے موقف پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
اس دھوکے کے بعد ان کا کیا مقام ہوگا؟ مسلمان ہونے کے ناطے انہیں کون سا راستہ اپنانا چاہیے؟ پوری مسلم کمیونٹی کو متاثر کرنے والے مسئلے پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینا قابل مذمت ہے۔ اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ وہ ملک گیر تحریک اور قانونی کارروائی شروع کرے گی۔
واضح رہے کہ وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کر لیا گیا۔ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے اس کی حمایت میں اور 95 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ وہیں لوک سبھا میں اس بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔