نئی دہلی: ملک بھر کے 25 کروڑ سے زیادہ کارکن 9 جولائی کو ملک گیر ہڑتال پر جانے والے ہیں۔جن میں بینکنگ، انشورنس سے لے کر کوئلے کی کان کنی، شاہراہوں اور تعمیرات کے کا کارکن شامل ہونگے ۔
ملک بھر میں اس زبردست ہڑتال سے ضروری خدمات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ 10 مرکزی مزدور تنظیموں اور ان سے منسلک اکائیوں کے ایک گروپ نے اس عام ہڑتال یا ‘بھارت بند’ کی کال ‘حکومت کی مزدور دشمن، کسان مخالف اور ملک دشمن کارپوریٹ نواز پالیسیوں کی مخالفت’ کے لیے دی ہے۔
مزدور تنظیموں کے اس گروپ نے ملک گیر عام ہڑتال کو بڑے پیمانے پر کامیاب بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ رسمی اور غیر رسمی/غیر منظم معیشت کے تمام شعبوں میں ہڑتال کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس ملک گیر ہڑتال اور بھارت بند کا بہت زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان بتایا جا رہا ہے۔ یہی نہیں، اپوزیشن جماعتوں کے مہاگٹھ بندھن نے 9 جولائی کو بہار میں چکہ جام کی کال بھی دی ہے۔ اس چکہ جام میں کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی بھی شرکت کریں گے۔
ہڑتال میں کون کون سی تنظیمیں شامل؟
بھارت بند میں متعدد تنظیمیوں کی یونین شریک ہو رہی ہیں۔ جن میں اے آئی ٹی یو سی، ایچ ایم ایس، سی آئی ٹی یو، آئی این ٹی یو سی، ٹی یو سی سی ، اے آئی سی سی ٹی یو، ایل پی ایف اور یو ٹی یو سی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ یونائیٹڈ کسان مورچہ اور یونائیٹڈ فرنٹ آف ایگریکلچرل لیبر یونین نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی، جس کی وجہ سے دیہی ہندوستان میں بڑے پیمانے پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کون سے شعبے متاثر ہونگے؟
آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی امرجیت کور نے کہا، “ہڑتال میں 25 کروڑ سے زیادہ کارکنوں کے شرکت کی توقع ہے۔ کسان اور دیہی کارکن بھی اس ملک گیر ہڑتال کا حصہ ہوں گے۔
ہند مزدور سبھا کے ہربھجن سنگھ سدھو نے کہا کہ ہڑتال کی وجہ سے بینکنگ، ڈاک، کوئلہ کانکنی، کارخانے، ریاستی ٹرانسپورٹ خدمات متاثر ہوں گی۔”
کیا ہیں مطالبات؟
بیان میں کہا گیا ہے، “ہم حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بے روزگاری پر توجہ دے، منظور شدہ آسامیوں پر بھرتی کرے، مزید ملازمتیں کی تقرری کرے، منریگا کارکنوں کے کام کے دن اور اجرت میں اضافہ کرے اور شہری علاقوں کے لیے بھی اسی طرح کے قانون بنائے۔
احتجاج کرنے والی یونینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے قبل 17 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ منسٹر منسکھ منڈاویہ کو پیش کیا تھا، لیکن کوئی بامعنی کارروائی نہیں کی گئی۔
ان کا الزام ہے کہ حکومت 10 سال سے سالانہ لیبر کانفرنس کا انعقاد نہیں کرنا چاہتی۔ نئے لیبر کوڈ کے ذریعے ٹریڈ یونینوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی اوقات کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور مزدوروں کے حقوق کو کم کیا جا رہا ہے۔
ہڑتال میں شامل ہونے کا نوٹس
این ایم ڈی سی لمیٹڈ اور دیگر غیر کوئلہ معدنیات، اسٹیل، ریاستی حکومت کے محکموں اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے لیبر لیڈروں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا نوٹس دیا ہے۔
مزدور رہنماؤں نے کہا کہ یونائیٹڈ کسان مورچہ اور یونائیٹڈ فرنٹ آف ایگریکلچرل ورکرز آرگنائزیشنز نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے اور دیہی ہندوستان میں بڑے پیمانے پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزدور تنظیموں نے اس سے قبل 26 نومبر 2020، مارچ 28-29، 2022 اور گزشتہ سال 16 فروری کو بھی اسی طرح کی ملک گیر ہڑتالیں کی تھیں۔
راہول گاندھی بہار بند میں ہونگے شامل
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بند کی کال دی ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی اس بند میں شرکت کریں گے۔
یہ بہار بند الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کی طرف سے ووٹر لسٹ کی جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے خلاف بلایا گیا ہے۔ انڈیا الائنس کے رہنماؤں نے ریاست گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
بہار میں اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کی سخت مذمت کی ہے، جسے اکتوبر-نومبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل 24 جون کو شروع کیا گیا تھا۔ آر جے ڈی کے تیجسوی پرساد یادو نے اسے ‘ووٹ بندی’ قرار دیا اور اس کا موازنہ نوٹ بندی سے کیا، جب کہ کانگریس کے ملکارجن کھرگے نے بی جے پی پر ووٹروں کو دبانے کا الزام لگایا۔ پپو یادو نے بھی اس بہار بند کی حمایت کی ہے۔