کھانے پینے والی اشیاء میں ملاوٹ عام چیز ہے، عوام الناس ملاوٹ شدہ اشیاء کھانے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اب حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مارکیٹ میں امپورٹ شدہ نقلی انڈے بیچے جا رہے ہیں اور یہ انڈے بالکل اصلی محسوس ہوتے ہیں جبکہ ان کو کھانے والوں کو ذرا شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نقلی انڈہ کھا رہے ہیں اور اس نقلی انڈے کی سپلائی ساؤتھ ایشیا اور خصوصاً پاکستان اور انڈیا میں جاری ہے اوریہ نقلی انڈے کھانے کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

مصنوعی انڈوں کے حوالے سے سڈنی یونیورسٹی کے ایک محقیق نے اپنے تحقیقی مقالہ میں لکھا ہے، جس کے مطابق 21 ویں صدی میں انسانوں میں اتنی صلاحیت آگئی ہے کہ اب انہوں نے قدرتی اشیا کی مصنوعی شکلیں بنانی شروع کر دی ہیں جس میں مصنوعی انڈے بھی شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ انڈے شکل میں بالکل اصلی انڈوں کی طرح لگتے ہیں لیکن یہ مصنوعی طریقے سے فیکٹری میں مختلف کیمیکل کو ملا کر بنائے جاتے ہیں اور پھر مارکیٹوں میں بھیجے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہےکہ چینی انڈے ہیں جو چین میں بنائے جاتے ہیں۔









