لکھنؤ: مین پوری کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے قومی صدر مولانا ساجد رشیدی کے خلاف لکھنؤ کے وبھوتی کھنڈ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
یہ شکایت سماجوادی پارٹی کے رہنما پرویش یادو نے درج کرائی ہے، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ابھی تک اس پورے تنازعہ پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران ایس پی صدر اکھلیش یادو اور ڈمپل یادو ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ کے احاطے میں واقع مسجد میں گئے۔
ایک ٹی وی شو کے دوران اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا ساجد رشیدی نے کہا تھا کہ مسجد میں 2 خواتین آئی تھیں۔ ان میں سے ایک نے خود کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈمپل پر قابل اعتراض تبصرہ کیا۔
مولانا ساجد کے اس تبصرے کے بعد اتر پردیش سے لے کر دہلی تک سیاست گرم ہو گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس واقعہ کو لے کر سماج وادی پارٹی پر شدید حملے کیے ہیں اور مولانا ساجد رشیدی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وہیں کانگریس لیڈر عمران مسعود نے سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو کا دفاع کیا ہے، وہیں سماجوادی پارٹی بھی اپنے لیڈروں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئی ہے۔
بی جے پی اقلیتی محاذ کے قومی صدر جمال صدیقی نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد کو ایس پی آفس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دہلی کی وزیر ریکھا گپتا اور دہلی وقف بورڈ سے مسجد کے امام محب اللہ ندوی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
مولانا محمد ساجد رشیدی کون ہیں:
مولانا محمد ساجد رشیدی ‘آل انڈیا امام ایسوسی ایشن’ کے قومی صدر ہیں۔ یہ تنظیم ملک بھر کے اماموں اور مذہبی رہنماؤں کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔ غور طلب ہے کہ انہوں نے 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں پہلی بار بی جے پی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں میں بی جے پی سے جڑے خوف کے احساس کو دور کرنا تھا۔
پولیس کارروائی جاری:
وبھوتی کھنڈ کے انسپکٹر سنیل کمار سنگھ نے کہا کہ مولانا رشیدی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 79، 196، 197، 299، 352، 353 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت کے مطابق قانونی اقدامات کیے جائیں گے اور تحقیقات جاری ہے۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈر پرویش یادو نے لکھنؤ میں مولانا ساجد رشیدی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔