ممبئی : پہلا نشہ بھی گلوکاری تھا اور پہلا خمار بھی گائیکی۔۔۔ والد کسان تھے چاہتے تھے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر ڈاکٹر یا انجینئر بنے، لیکن کاتب تقدیر نے تو ان کے لیے تو کوئی اور ہی راستہ چنا تھا۔
وہ راہ جو بظاہر مشکل تھی لیکن ایک خوبصورت اور شاندار منزل تک لے جاتی تھی اور اس راہِ تمنا نے ادت نارائن کو ہمیشہ سرگرم عمل رکھا۔
یکم دسمبر 1955 کو بہار کے سُپول کے بیسی میں پیدا ہوئےاُدت نارائن کے والد ہرے کرشنا جھا ایک کسان تھے اور والدہ بھونیشوری دیوی روایتی میتھلی اور بھوجپوری کی معروف گلوکارہ تھیں۔
ادت نارائن کو گائیکی کا یہ شوق اورجذبہ والدہ سے ملا اور وقت کے چاک پر زمانے کے سرد و گرم نے ان کی اس صلاحیت کو نکھارا اور سنوارا یہاں تک کہ 1988 میں آئی فلم ‘قیامت سے قیامت تک’ کے گیت ‘پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا’ نے انہیں راتوں رات اسٹار بنا دیا۔ آج جب لوگ ان سے کہتے ہیں کہ راتوں رات آپ شہرت کے آسمان پر پہنچ گئے۔۔!
تو وہ بہت انکساری سے یہی جواب دیتے ہیں کہ” ایسا نہیں ہے میں نے بہت سخت محنت کی ہے تب جا کر یہ مقام پایا ہے۔”
ادت نارائن کا فنی سفر پانچ چھ سال کی چھوٹی سی عمر میں شروع ہوا۔ گھر میں والدہ کی گائیکی نے انہیں مانوس فضا دی۔ اس زمانے میں لوگ ریڈیو سنا کرتے تھے اور گنے چنے لوگوں کے گھروں میں ہی ریڈیو ہوا کرتا تھا۔
ننھے ادت دور سے جاکر گانے سنا کرتے ، گیت سنگیت سے محبت اسی زمانے میں پیدا ہوئی۔ بیسی گاؤں میں چھوٹے چھوٹے میلے لگتے تھے، فنکشن یا کیرتن ہوا کرتے تھے، اُدت ان پروگراموں میں حصہ لیتے اور گانے گایا کرتے تھے۔
میتھلی کے لوک گیتوں سے گائیکی کی شروعات ادت نے یہیں سے کی۔ سُپول کے جگیشور ہائی اسکول سے میٹرک تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد کاٹھمنڈو کا رخ کیا ۔
ریڈیو نیپال اُدت نارائن کی زندگی میں ایک اہم سنگ میل بن کر سامنے آیا۔ جہاں انہوں نے نیپالی میتھلی اور بھوجپوری زبانوں میں لوک گیت اور ماڈرن نغمے گائے، یہ 1970 کی بات ہے۔ صرف سو روپے کا معاوضہ، لیکن سو روپے گزارے کے لیے ناکافی تھے لہذا فائیو اسٹار ہوٹلوں میں گانے گائے، لیکن ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے گلو کاری کے شوق میں والد کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو پس پشت ڈال دیا اُدت نارائن نے رتن راجیہ لکشمی کیمپس تری بھوون یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کیا اور گلو کاری کا شوق بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔
1978میں ادت نارائن کو انڈین ایمبیسی سے میوزک اسکالر شپ ملا اور انہوں نے ممبئی کے لیے رخت سفر باندھا جہاں چھ برسوں تک بھارتیہ ودیہ بھون میں کلاسیکی گائیکی کی تربیت حاصل کی۔
اس دوران انہوں نے انڈسٹری کے نامور موسیقی کاروں لکشمی کانت پیارے لال، آرڈی برمن، راجیش روشن، کلیان جی آنند جی اور بپی لہری کے گیتوں کی ریکارڈنگ کو قریب سے دیکھا اور ان سب سے ملنے جلنے کا موقع بھی ملا ۔ سب نےانہیں محنت ایمانداری اور لگن کی نصیحت کرتے ہوئے ڈٹے رہنے کا حوصلہ دیا ۔
1980 میں فلم ‘انیس بیس’ کے لیے راجیش روشن نے ادت نارائن کو محمد رفیع اور اوشا منگیشکر کے ساتھ ایک گیت گانے کا موقع دیا اور اس گیت سے پہلی مرتبہ ادت فلم انڈسٹری کی نظروں میں آئے۔ کلیان جی آنند جی، پرکاش مہرا اور چترگپت نے انہیں مختلف فلموں میں گانے کا موقع دیا لیکن اُدت کو جس کی تلاش تھی وہ منزل ابھی دور تھی۔
سن 1978 سے 1988 تک کا دور ان کی جد وجہد کا زمانہ تھا، انہوں نے لوکل ٹرینوں میں سفر کیا، بسوں میں سوار ہوئے اور راہِ شوق کی منزلیں پیدل بھی طے کیں تب جا کر زندگی میں وہ موقع آیا جس کا انہیں برسوں سے انتظار تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ” انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی ہٹ فلم ملے گی، اتنا بڑا بینر ملے گا، عامر خان جیسے ہیرو ملیں گے، آنند ملند کا خوبصورت میوزک ملے گا اور مجروح سلطان پوری کے گیت ملیں گے۔”
فلم ریلیز ہوئی تو اُدت دلبرداشتہ بھی ہوئےکیوں کہ فلم نے پہلے ہفتے کچھ خاص کاروبار نہیں کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے سوچا ‘اب تو کچھ ہونا نہیں ہے، واپس گاؤں جا کر کھیتی باڑی کریں گے اور گیت شوقیہ طور پر گاتے رہیں گے لیکن دوسرے ہفتے سے فلم نے رفتار پکڑی اور پھر جو ہوا وہ بیان سے باہر ہے’۔
واقعی قسمت یوں مہربان ہوئی کہ ادت نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دل، بیٹا، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، ڈر، دل تو پاگل ہے، کچھ کچھ ہوتا ہے، غدر ایک پریم کتھا، لگان، ویر زاراجیسی سپر ہٹ فلموں اور سپر ہٹ نغموں کی ایک قطار لگ گئی۔
ادت نے ہندی کے علاوہ تیلگو، کنڑ، تمل، بنگالی، سندھی، اڑیہ ،بھوجپوری،نیپالی،ملیالم ،آسامی، بگھیلی اور میتھلی سمیت تقریباً 40 زبانوں میں گیت گائے ہیں۔ فلمی گیتوں کے علاوہ پوپ، سیمی کلاسیکی، بھجن، لوک گیت وغیرہ کو بھی بڑی خوبصورتی سے اپنی آواز اور سُروں میں ڈھالا ہے۔ خود ان کے مطابق انہوں نے 21 سے 25 ہزار گانے گائے ہیں۔
90 کی دہائی سے فلموں اور گیتوں کےعروجِ فن کا ایک نیا سفر شروع ہوا ۔اس دور میں ادت نارائن کے ساتھ ساتھ کمار سانو نے ساز وآواز کی دنیا پر اپنا سکہ جمایا ۔ ‘عاشقی’ نے کمار سانو کو لازوال شہرت دی اور ‘ دل’ نے اُدت نارائن کو لوگوں کے مسندِ دل پر براجمان کیا ۔ دونوں میں زبردست مقابلہ آرائی رہی لیکن اُدت اسے صحت مند مقابلہ آرائی کہتے ہیں جو کسی بھی فن کو بامِ عروج پر لے جانے کے لیے ضروری ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ ‘آپ کا اپنا مقدر ہے، آپ کا اپنا ٹیلنٹ ہے، جوملنا ہے وہ مل کر رہے گا ،جو نہیں ملنا اس کے لیے کچھ بھی کیجیٔے نہیں ملے گا’
وہ خود کو بہت خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں لتا جی کے ساتھ بے شمار گیت گانے کا موقع ملا اور لتا جی نے انہیں ‘پرنس آف پلے بیک سنگنگ’ کا ٹائٹل دیا جسے وہ کسی اعزاز سے کم نہیں سمجھتے ہیں۔
ادت کو 4 نیشنل فلم ایوارڈز اور 5 فلم فئیر ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ فن و ثقافت کے تئیں ان کی گراں قدر خدمات کے لیے2009 میں پدم شری اور 2016 میں پدم بھوشن سے سرفراز کیا جا چکا ہے ۔
ان کے بیٹے آدتیہ نارائن بھی اپنے والد سے ملے گلوکاری کے فن کو آگے بڑھا رہے ہیں مختلف ریئلٹی شوز میں دونوں ایک ساتھ پردۂ سیمیں شئیر کرتے نظر آتے ہیں۔ نئی نسل کے فنکاروں سے بھی ان کا یہی کہنا ہے کہ
”آپ کو اچھا کام کرنا چاہیے، اپنے گانوں کو اتنا اچھا گائیں کہ لوگوں کے دلوں کو تیر کی طرح چھو جائیں۔ اپنے کاموں کو آگے بڑھاتے جائیں اور اسپرٹ کو یہ کہہ کر بڑھاتے جائیں کہ ہمیں اور اچھا کرنا ہے ”
یہ کامیابی کا وہ منتر ہے جس کی وجہ سے اُدت کئی دہائیوں سے اپنے چاہنے والوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں اورسرحدوں سے ماورا شہرت و مقبولیت کے افق پر مہ تاباں کی طرح روشن ہیں