نئی دہلی : علی سردار جعفری ایک ممتاز اُردو شاعر، نقّاد اور دانشور تھے جن کی ادبی وراثت آج بھی جنوبی ایشیا کے ادب کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ان کی شاعری، جو ترقی پسند تحریک سے گہرے طور پر وابستہ ہے، سماجی شعور اور انسان دوستی کے مضبوط احساس کی آئینہ دار ہے۔ جعفری کے کلام میں اکثر سماجی انصاف، مساوات اور عام انسان کی جدوجہد جیسے موضوعات ملتے ہیں، جو انہیں محروم طبقات کی ایک توانا آواز بناتے ہیں۔
جعفری کا اسلوب سادگی اور براہِ راست اظہار کا حامل ہے، جس کے باعث ان کا پُراثر پیغام وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے غزل اور نظم جیسی روایتی اُردو اصناف کو نہایت مہارت سے استعمال کیا اور انہیں جدید معنویت سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے کام میں مرزا غالب اور میر تقی میر جیسے کلاسیکی شعرا کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں، ساتھ ہی وہ اپنے عہد کی انقلابی روح سے بھی فیض یاب تھے۔
جعفری کے ہم عصر شعرا میں ترقی پسند تحریک کے دیگر نمایاں نام ، جیسے فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی شامل تھے ۔ یہ سب شعرا، سماجی تبدیلی کے مشترکہ عزم کے ساتھ، اُردو شاعری کا رخ بدلنے میں پیش پیش رہے۔
انہوں نے شاعری کو محض رومانویت اور روحانیت کے دائرے سے نکال کر اپنے زمانے کی سماجی و سیاسی حقیقتوں سے براہِ راست جوڑ دیا۔ جعفری کی ادبی خدمات آج بھی جنوبی ایشیا میں سماجی اور سیاسی مباحثے کے لیے اہم اور زندہ حیثیت رکھتی ہیں۔
علی سردار جعفریہندوستانی عوام کے شاعر، اردو ترقی پسند تحریک کے روشن مینار اورایک مجاہد آزادی تھے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن کی حیثیت سے وہ سیکولرزم، سماجی انصاف اور برابری کے علمبردار رہے۔
اتر پردیش کے ضلع گونڈہ میں 29نومبر 1913 پیدا ہونے والے جعفری کو ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے گہری وابستگی تھی۔ وہ پہلی بار 1942 میں ممبئی (بمبئی) گئے اور اپنی ابتدائی شاعری کا بڑا حصہ انہوں نے بطور مجاہدِ آزادی جیل میں رہ کر لکھا۔
مضبوط ایمان رکھنے والے مسلمان ہونے کے باوجود ان کی طاقتور اور تخلیقی آواز نے ہر طرح کے امتیاز اور غربت کے خلاف علم بلند کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں 14 شعری مجموعے شائع کیے اور قدیم ہندوستانی شعرا-کالی داس، کبیر، غالب کے علاوہ شاعرہ میرا کے کلام کی تدوین بھی کی۔
جعفری تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والی فرقہ وارانہ تشدد کے سخت ناقد تھے اور اس کے بعد پھیلنے والی فرقہ وارانہ سیاست سے انتہائی بیزار تھے۔
انہوں نے بالی وڈ میں مختصر مگر کامیاب عرصہ بطور پروڈیوسر، اسکرپٹ رائٹر اور نغمہ نگار گزارا۔ انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی شامل ہے-
وہی ادارہ جس سے انہیں زمانۂ طالب علمی میں تحریکِ آزادی میں سرگرم کردار کی وجہ سے خارج کردیا گیا تھا۔ انہیں امن کی جدوجہد کے اعتراف میں ہارورڈ یونیورسٹی نے بھی اعزاز پیش کیا۔
علی سردار جعفری نے اپنا بچپن اور ابتدائی زندگی بلرام پورمیں گزاری۔ان کی ابتدائی ادبی تربیت پر میر انیس اور جوش ملیح آبادی کا گہرا اثر تھا۔ 1933 میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں داخل ہوئے جہاں وہ اشتراکی نظریات سے متعارف ہوئے اور 1936 میں ”سیاسی وجوہ” کی بنا پر یونیورسٹی سے نکال دیے گئے۔
تاہم، انہوں نے 1938 میں دہلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج (دہلی کالج) سے گریجویشن مکمل کی۔ لیکن لکھنؤ یونیورسٹی میں ان کی بعد از گریجویٹ تعلیم اس وقت ادھوری رہ گئی جب 1940-41 کے دوران انہیں جنگ مخالف نظمیں لکھنے اور کانگریس کے سیاسی پروگراموں میں حصہ لینے کے باعث گرفتار کر لیا گیا، جہاں وہ طلبہ یونین کے سیکریٹری بھی تھے۔
جعفری نے اپنا ادبی سفر 1938 میں اپنی پہلی افسانوی مجموعہ “منزل” کی اشاعت سے شروع کیا۔ ان کی پہلی شعری کتاب “پرواز” 1944 میں شائع ہوئی۔ 1936 میں انہوں نے لکھنؤ میں ترقی پسند ادیبوں کی پہلی کانفرنس کی صدارت کی، اور بعد میں زندگی بھر اُن کے دیگر اجلاسوں کی بھی صدارت کرتے رہے۔
سال1939 میں وہ “نیا ادب” کے معاون مدیر بنے، جو ترقی پسند تحریک کا ادبی رسالہ تھا اور 1949 تک شائع ہوتا رہا۔وہ متعدد سماجی، سیاسی اور ادبی تحریکوں سے وابستہ رہے۔ 20 جنوری 1949 کو انہیں بھیؤنڈی میں ترقی پسند اُردو کانفرنس منعقد کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیاگیا۔
ایک نغمہ نگار کی حیثیت سے ان کے اہم کاموں میں “دھرتی کے لال” (1946) اور “پردیسی” (1957) شامل ہیں۔ سال1948 سے 1978 کے درمیان انہوں نے آٹھ شعری مجموعے شائع کیے ، جن میں نئی دنیا کو سلام (1948)، خون کی لکیر، امن کا ستارہ، ایشیا جاگ اُٹھا (1951)، پتھر کی دیوار (1953)، ایک خواب اور، پیراہنِ شرر (1965) اور لہو پکار تا ہے (1965) شامل ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے اودھ کی خاکِ حسین، صبحِ فردا، میرا سفر اور اپنا آخری مجموعہ سرحد شائع کیا۔ اپنے پچاس سالہ ادبی سفر میں جعفری نے کبیر، میر، غالب اور میرا بائی کے انتخاب بھی مرتب کیے اور ان پر اپنے دیباچے لکھے۔
وہ اپنی خود نوشت کے مصنف بھی تھے اور رسالہ گفتگو کے مدیر و ناشر بھی رہے، جو برصغیر کے اہم ادبی رسائل میں شمار ہوتا ہے۔
” اردو کے لئے سردار جعفری کی مجموعی خدمات کو دیکھتے ہوئے انھیں محض اک معتبر ترقی پسند شاعر کے زمرہ میں ڈال دینا ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اشتراکی نظریہ ان کی رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا لیکن ایک سیاسی کارکن، شاعر، نقّاد اور نثر نگار کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ایک مفکر، دانشور اور سب سے بڑھ کر ایک انسان دوست ہمیشہ سانسیں لیتا رہا۔
سردار جعفری نے حالات حاضرہ اور زندگی میں روزمرّہ پیش آنے والے نت نئے مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور اپنے عہد کے نبّاض کی حیثیت سے انھوں نے جو دیکھا اسے اپنی شاعری میں پیش کر دیا۔ سردار جعفری کی شخصیت پہلو دار تھی۔ انھوں نے شاعری کے علاوہ تخلیقی نثر کے عمدہ نمونے اردو کو دئے۔
علمی نثر میں ان کی کتاب “ترقی پسند ادب” ان کی ناقدانہ بصیرت کی نشاندہی کرتی ہے۔ وہ افسانہ نگار اور ڈراما نویس بھی تھے۔ ان کو اردو میں دانشوری کی بہترین مثال کہا جا سکتا ہے۔
وہ علمی، ادبی، فلسفیانہ، سیاسی اور سماجی موضوعات پر ماہرانہ گفتگو کرتے تھے۔ اگر ہم شاعری میں ان کا موازنہ ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے شاعر فیض احمد فیض سے کریں تو پتہ چلتا ہے کہ فیض کی شاعری میں اشتراکیت کو تلاش کرنا پڑتا ہے جبکہ علی سردار کی اشتراکیت میں ان کی شاعری ڈھونڈنی پڑتی ہے۔
سردار جعفری کا شعری لب و لہجہ اقبال اور جوش ملیح آبادی کی طرح بلند آہنگ اور خطیبانہ ہے۔ لیکن انھوں نے اپنی شعرگوئی کے طویل سفر میں کئی طرح کی اختراعات کیں اور جدّت کا ثبوت دیا۔ انھوں نے اپنے اشعار میں عوامی محاورے استعمال کئے۔ انھوں نے اردو فارسی کی کلاسیکی شاعری کا گہرا مطالعہ کیا۔
ان کی شعری تخلیقات کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں کئے گئے۔ اور اسکالرز نے ان کی شاعری پر تحقیقی کام کیا۔ سردار جعفری کو ان کی ادبی خدمات کے لئے جو پذیرائی ملی وہ بہت کم ادیبوں کے حصہ میں آتی ہے۔
ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ گیان پیٹھ کے علاوہ ان کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور سوویت لینڈ نہرو انعام سے نوازا گیا۔ ملک کی مختلف ریاستی اردو اکیڈمیوں نےانھیں انعامات اور اعزازات دئے۔
حکومت نےبھی ان کو پدم شری کے خطاب سےنوازا۔علی سردار جعفری کا انتقال یکم اگست 2006 میں 86 برس کی عمر میں دماغ کے سرطان کے باعث ہوا۔