نئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن جمعرات کو دو روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچنے والے ہیں، جو یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ملک کا پہلا دورہ ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نئی دہلی میں ان کا استقبال کریں گے اور لینڈ ہونے کے فوراً بعد ان کے لیے عشائیہ کی میزبانی کریں گے۔
جمعہ کو طے شدہ 23 ویں بھارت روس سالانہ چوٹی کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ نے نئی دہلی پر روسی تیل برآمد کرنے کی وجہ سے تعزیزی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
اس دورے پر بھارت اور روس تجارتی اور توانائی کی شراکت داری پر بات چیت کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ دورے سے قبل ماسکو نے بھارت کے ساتھ ایک اہم دفاعی معاہدے کو بھی منظوری دے دی ہے، جس سے دو طرفہ فوجی تعاون میں نئی رفتار کا اشارہ ملتا ہے۔
پوتن کے جمعرات کی شام نئی دہلی پہنچنے کی توقع ہے، جس کے بعد پی ایم مودی ایک نجی عشائیہ میں ان میزبانی کریں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ سال روسی صدر نے بھی ماسکو میں پی ایم مودی کی میزبانی کی تھی۔ آج رات کو عشائیہ کے بعد اگلے دن باضابطہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے جمعہ کو ان کا رسمی استقبال کیا جائے گا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ دونوں فریق نئی دہلی کو ایس یو 57 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فراہمی پر بات کر سکتے ہیں۔ اس دورے پر متعدد معاہدے ہونے کی امید ہے، جس میں ایک بھارتی کارکنوں کی روس میں نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
دونوں حکومتیں یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ بھارت کے مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر بھی غور کر سکتی ہیں، جس پر نئی دہلی اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے زور دے رہا ہے۔ پی ایم مودی کے ساتھ سربراہی کانفرنس کے بعد صدر پوتن صدر دروپدی مرمو کی طرف سے دی گئی سرکاری ضیافت میں شرکت کریں گے۔
وہ روس کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی کے نئے انڈیا چینل کو بھی لانچ کرنے والے ہیں، جو میڈیا کی رسائی اور سافٹ پاور کی مصروفیت میں توسیع کا اشارہ دیتا ہے۔
28 نومبر کو جاری کردہ ایک بیان میں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا، “یہ دورہ بھارت اور روس کی قیادت کو دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لینے، ‘خصوصی اور مروجیہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔