اقوام متحدہ : اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے اتوار کو ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور مغربی سلامتی کونسل کے ارکان پر دوہرے معیار کا الزام لگایا۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا کہ امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بلا اشتعال میزائل اور بم حملے کیے جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں تھے۔
انہوں نے ان حملوں کو ‘غیر ذمہ دارانہ، خطرناک اور اشتعال انگیز’ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خودمختار ملک پر حملہ ہے۔
روس نے کہا کہ امریکہ نے ایک بار پھر عالمی برادری کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے اسرائیلی اتحادی کے مفادات کے لیے ہزاروں فلسطینی خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہلاکتوں پر نہ صرف آنکھیں بند کیں بلکہ پوری انسانیت کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مسٹر نیبنزیا نے خبردار کیا کہ ان حملوں سے جوہری تابکاری کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جو خطے اور اس کے باہر کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کی زندگی اور صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یکطرفہ اور بین الاقوامی ضوابط کے خلاف قدم اٹھاکر ایک خطرناک سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے انجام کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔
مسٹر نیبنزیا نے کہا کہ امریکہ خود کو سپریم جج سمجھتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ عالمی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی بھی جرم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا کوئی بھی باشعور رکن اب امریکی اتحادیوں پر اعتماد نہیں کرے گا۔
روسی ایلچی نے سلامتی کونسل کے مغربی ممالک پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ ایران جو کہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہے، اس پر حملہ کیا جاتا ہے، جب کہ اسرائیل جس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کیے اسے کوئی چیلنج نہیں کیا جاتا۔