شاملی: اترپردیش کے شاملی سے سماج وادی پارٹی کے یوتھ بریگیڈ کے کارکنوں نے کیرانہ سے ایس پی ایم پی اقرا حسن کے ساتھ اے ڈی ایم سنتوش بہادر کی مبینہ بد سلوکی کے معاملے میں کارروائی نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
یوتھ بریگیڈ کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے ڈی ایم کے خلاف محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی تو وہ سڑک سے ایوان تک مظاہرہ کریں گے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت کی ہوگی۔
اس سلسلے میں سماج وادی یوجنا سبھا کے کارکنان جمعہ کو شاملی کلکٹریٹ پہنچے، جہاں انہوں نے چیف منسٹر کے نام ایک میمورنڈم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو سونپا۔ اس میں انہوں نے سہارنپور کے اے ڈی ایم سنتوش بہادر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ اگر اس معاملے میں کارروائی نہ کی گئی تو وہ سڑک سے ایوان تک مظاہرہ کریں گے اور اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ انتظامی افسران اور حکومت ہوگی۔
سماج وادی پارٹی کے لیڈر شیر سنگھ رانا نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا عام لوگوں کے ساتھ جس طرح آمرانہ رویہ ہے، نوکر شاہی کا رویہ بھی عوام کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے ثبوت کی ضرورت نہیں۔
سہارنپور کے اے ڈی ایم نے ایم پی کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں نوکر شاہی کس طرح چل رہی ہے۔ اس کو لے کر عوامی نمائندوں اور سماج وادی پارٹی کے کارکنوں میں غصہ ہے۔
کیا ہے معاملہ: ایم پی اقرا حسن کا الزام ہے کہ جب انہوں نے اے ڈی ایم سے چھتمل پور علاقہ سے متعلق مسائل سننے کی درخواست کی تو اے ڈی ایم نے ان کے ساتھ بدسلوکی کا برتاؤ کیا۔
انہوں نے کہا میرے دفتر سے نکل جاؤ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دفتر ان کا ہے اور وہ جو چاہے کرنے کے لیے آزاد ہیں۔