غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی علاقے دہاران ال جنوب میں 142 سال کی عمر میں سعودی عرب کے معمر ترین شہری نصیر بن رادان الراشد ال وداعی انتقال کر گئے۔
عالمی خبر ایجنسی کے مطابق نصیر بن رادان الراشد ال وداعی کی نماز جنازہ میں سات ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جبکہ ان کی تدفین بعد ازاں ان کے آبائی گاؤں ال راشد میں کی گئی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق نصیر بن رادان کی ذاتی زندگی بھی غیر معمولی تھی، انہوں نے اپنی زندگی میں 40 سے زائد حج ادا کیے اور مذہب سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔
ان کے بچوں، پوتے، پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی تعداد 134 بتائی جاتی ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ انہوں نے آخری مرتبہ 110 سال کی عمر میں شادی کی تھی اور اپنی آخری اہلیہ کے ساتھ ایک بیٹی بھی پیدا کی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق نصیر بن رادان ال وداعی کی پیدائش موجودہ سعودی عرب کے قیام سے قبل ہوئی تھی اور انہوں نے جدید سعودی ریاست کے بانی شاہ عبدالعزیز سے لے کر موجودہ حکمران شاہ سلمان تک کے دور حکومت کا مشاہدہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی زندگی ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط تھی، جس میں سعودی عرب میں اہم سیاسی، سماجی اور معاشی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
نصیر بن رادان کے انتقال کی خبر سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور انہیں ایمان، صبر اور ثابت قدمی کی علامت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
نصیر بن رادان ال وداعی کی زندگی اور ان کا طویل عرصے تک صحت مند رہنا سعودی عرب اور دنیا بھر کے لیے حیران کن اور دلچسپ مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو انسانی عزم، عقیدت اور خاندانی رشتوں کی مضبوطی کی غماز ہے۔