برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ نے مشترکہ بیان میں اسرائیل سے ’فوری اور ضروری‘ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دنیا کے 10 ممالک نے غزہ میں ’انسانی صورت حال کے نئے سرے سے بگڑنے‘ کے بارے میں منگل کو ’سنگین تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے صورت حال کو ’تباہ کن‘ قرار دیا اور اسرائیل سے فوری عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے خارجہ نے برطانیہ کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا: ’جیسے جیسے موسم سرما شروع ہو رہا ہے، غزہ میں شہریوں کو شدید بارشوں اور گرتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ خوفناک حالات کا سامنا ہے۔‘
برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے منگل کو کہا تھا کہ اس نے دو درجن سے زیادہ انسانی تنظیموں، جن میں ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور کیئر بھی شامل ہیں، کو غزہ میں رجسٹریشن کے نئے قوانین کی تعمیل میں ناکامی پر کام کرنے سے روک دیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو امدادی تنظیموں میں دراندازی سے روکنا ہے، تاہم ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قواعد صوابدیدی ہیں اور متنبہ کیا ہے کہ نئی پابندی سے شہری آبادی کو نقصان پہنچے گا، جسے انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
اسرائیل نے پوری جنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ حماس امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ اور امدادی گروپوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
29 دسمبر 2025 کو جنوبی غزہ میں المواسی پناہ گزین کیمپ میں ایک بے گھر فلسطینی خاتون عارضی پناہ گاہ میں کھانا تیار کر رہی ہیں (اے ایف پی)
اس سال کے اوائل میں اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ نئے قوانین کے تحت امدادی تنظیموں کو اپنے کارکنوں کے ناموں کے اندراج اور غزہ میں کام جاری رکھنے کے لیے فنڈز اور آپریشنز کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل اور حماس نے غزہ پر اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی شدید اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے بعد اکتوبر میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔