کولمبو: سری لنکا کی قوم پرست تنظیم کے شدت پسند بدھ مت پیروکاروں نے دارالحکومت کے اطراف میں قائم روہنگیا مسلمان مہاجرین کے کیمپ پر حملہ کیا اور پولیس پر مبینہ طور پر غیر قانونی مہاجرین کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
جس کے بعد پولیس نے 31 مہاجرین، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو گرفتار کرکے سری لنکا کے جنوب میں قائم بوسا کمیپ میں منتقل کردیا۔
ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر کو یقین دہانی کرائی گئی کہ بوسا میں مہاجرین کی منتقلی عارضی ہے، بعد ازاں ان انتظامات کو یو این ایچ سی آر نے منظور کرلیا۔

سری لنکن حکومت اور یو این ایچ سی آر مہاجرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک ساتھ کام کررہی ہیں تاکہ حراستی مرکز کی حالت اچھی ہو۔
کولمبو میں موجود سفارتی کمیونٹی کو بھی مذکورہ کارروائی پر بریفنگ دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ سری لنکا میں روہنگیا مسلمانوں پر مذکورہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اور خاص طور پر مسلم اُمہ میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار حکومت کے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔










