شام کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ گروپ کا ایک شدت پسند چرچ میں داخل ہوا اور وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ کی اور پھر خودکش حملہ کیا۔
شام میں اتوار کو دمشق کے قریب ایک بھرے چرچ پر خودکش حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع دی۔ یہ حملہ دمشق کے مضافات میں ڈویلا میں اس وقت ہوا جب لوگ ‘مار الیاس’ چرچ کے اندر نماز ادا کر رہے تھے۔
خبر رساں ایجنسی ‘سانا’ نے وزارت صحت کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کم از کم 53 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ‘سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس’ نے کہا کہ اس حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم تنظیم نے صحیح تعداد نہیں بتائی۔
کچھ مقامی میڈیا تنظیموں کے مطابق حملے میں جان کی بازی ہارنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ اتوار کے حملے کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم شام کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ گروپ کا ایک شدت پسند چرچ میں داخل ہوا، اندر موجود لوگوں پر فائرنگ کی اور پھر خودکشی کر لی۔ بعض گواہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ شام کے وزیر اطلاعات حمزہ مصطفیٰ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔