صہیونی حکومت دروزی قبائل سے ہمدردی کا دم بھرتے ہوئے شام کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی خطرناک سازش کررہی ہے۔
خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گذشتہ دنوں صہیونی فضائیہ نے دمشق سمیت شام کے بڑے شہروں میں سیاسی اداروں اور عسکری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا۔ الجولانی کی طرف سے صہیونی حکومت کی تمام شرطیں قبول کرنے کے باوجود حملوں کے بعد نتن یاہو کے ارادوں کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔
معروف عسکری تجزیہ کار رامی ابوزبیدہ نے ایک تحقیقی مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ جنوبی شام میں جاری بدامنی محض داخلی خانہ جنگی نہیں بلکہ ایک گہری صہیونی سازش کا تسلسل ہے، جس کے تحت تل ابیب دروزی برادری کو بطور آلہ استعمال کر کے شام کو اندر سے توڑنے کی کوشش کررہا ہے۔
ابوزبیدہ کے مطابق، اسرائیل اب صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں بلکہ شام میں نسلی و مذہبی اقلیتوں کے ذریعے براہ راست زمینی مداخلت اور اقتدار کے خلا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہزاروں دروزیوں کا صہیونی علاقوں سے شام میں داخل ہونا اور ان کے ساتھ مقبوضہ فلسطین میں موجود دروزی مذہبی رہنماؤں کی اشتعال انگیز بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ سب ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے۔ دروزیوں کے روحانی پیشوا موفق طریف نے السویدا کی صورت حال کو 7 اکتوبر کی طوفان الاقصی آپریشن سے تشبیہ دے کر دروزیوں کو فوجی اقدامات پر اکسانے کی کوشش کی۔
اسرائیلی فضائیہ نے انہی دنوں دمشق میں وزارت دفاع کے قریب حساس اہداف کو نشانہ بنایا، جسے شام کی قیادت کے لیے ایک واضح پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔
السویدا میں جھڑپوں اور دمشق پر صہیونی جارحیت کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں جو شام کی سالمیت کے لئے کسی بھی طور پر خوش آئند نہیں۔ جنوبی شام ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں اسرائیل فرقہ وارانہ ایجنڈے کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔
دروزیوں کے اندر صہیونی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی تشکیل کا خطرہ اس خطے کو خونریز خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
دمشق پر دباؤ ڈالنے اور اسے داخلی محاذوں پر مصروف رکھنے کی اسرائیلی کوشش ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد شام کی مرکزی حکومت کو کمزور کرنا اور اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔
رامی ابوزبیدہ کے مطابق، جو کچھ السویدا میں ہو رہا ہے وہ محض ایک وقتی بحران نہیں بلکہ شام میں ایک نئے خطرناک مرحلے کا آغاز ہے، جہاں صہیونی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی آڑ میں ملک کی خودمختاری پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شامی حکومت ان چیلنجز کے مقابلے میں کس طرح کا ردعمل دیتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ شام پر صہیونی حکومت کی جارحیت کے باوجود یورپی یونین کی خاموشی شرمناک ہے۔
خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسرائیل کی جانب سے شام پر کی گئی جارحیت سے متعلق یورپی یونین کے جانبدارانہ اور منافقانہ مؤقف پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کی خارجہ سروس کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے اسرائیل کی واضح اور ننگی جارحیت کو صرف تناؤ میں اضافہ کہہ کر حقیقت کو مسخ کیا ہے اور اس طرح اخلاقی اصولوں کی محض ظاہری پاسداری بھی ترک کر دی ہے۔
ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایران نے ہمیشہ جارحیت اور قانون شکنی کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت کی ہے۔ ہم یورپی یونین کی دوغلی پالیسیوں اور جانبدارانہ رویے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ کی طرح شامی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی قومی خودمختاری اور ارضی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔